خطبات محمود (جلد 17) — Page 43
خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۳۶ء سے تبلیغی کا موں کو محفوظ کرنے کیلئے میں نے ایک ریز رو فنڈ کی تجویز کی تھی اور دوسری تحریک یہ کی تھی کہ جماعت کے دوست آنریری طور پر تبلیغی خدمات کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اب یہ سب تحریکیں میں نے تحریک جدید میں جمع کر دی ہیں۔اول یہ کہ نو جوان قلیل گزارہ پر تبلیغ کیلئے باہر نکل جائیں۔اس کے ماتحت خدا کے فضل سے سینکڑوں نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔کئی باہر جاچکے ہیں دو ابھی گل گئے ہیں اور پانچ سات تیار بیٹھے ہیں جو ایک دو ماہ میں ہی چلے جائیں گے۔دوسرے یہ کہ ہر سال ایک رقم بچا کر صدرانجمن کے نام پر کوئی جائداد خریدی جائے یا کوئی نفع بخش کام جاری کر دیا جائے۔اور تیسرے ہنگامی کاموں کیلئے چندہ کی تحریک کی جائے اور باوجود منافقوں کے اس شور کے کہ جماعت میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے یا احراریوں کے اس پر و پیگینڈا کے کہ جماعت کے لوگ تنگ آچکے ہیں میں آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اعلان کرنے کے قابل ہوں کہ جماعت نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال زیادہ چندہ کا وعدہ کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اگلے سال اس سے بھی زیادہ دینے کیلئے وہ تیار رہے گی اور تیسرے سال کی تحریک کو ایسے رنگ میں کامیاب کرے گی کہ ہم اس کے اختتام پر دولاکھ روپید ریز رو فنڈ میں منتقل کرسکیں گے۔میں نے چند سال ہوئے شوری کے موقع پر ۲۵ لاکھ روپید ریز رو فنڈ کے طور پر جمع کرنے کی تحریک کی تھی مگر افسوس کہ دوستوں نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔اب میری پوری یہ کوشش ہوگی کہ گزشتہ سال اور اس سال کی تحریک جدید کی آمد میں سے ایک لاکھ روپیہ بچا کر ریز رو فنڈ میں جمع کرسکیں اور پھر اگلے سال اللہ تعالیٰ دوستوں کو خاص قربانی کی توفیق دے تو ایک لاکھ روپیہ اس سے جمع کر کے دولاکھ روپی گل ریز رو فنڈ میں جمع کر دیں اور اس سے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ کچھ تو صدرانجمن کے نام پر جائداد خرید لی جائے اور کچھ روپیہ بعض سودمند تجارتوں میں لگا دیا جائے اور اس مستقل آمد سے مستقل اخراجات چلائے جائیں اور اس میں سے جو بچے اس سے ریز رو فنڈ کو بڑھایا جائے اور آئندہ چندہ کی رقم سے صرف ہنگا می کام چلائے جائیں۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں ہمیں آج یہ ضرورتیں اس لئے پیش آرہی ہیں کہ اس زمانہ کا