خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۶ء پس تم خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ اور دنیا کو خدا کے آستانہ پر جھکانے کی کوشش کرو اور یاد رکھو کہ جب خدا تعالیٰ ساتھ ہوتا ہے تو پھر دنیا کے لوگ خود بخو دساتھ ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کوئی تاجر تھا جو باہر تجارت کیلئے جانے لگا تو اس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد دو ہزار روپیہ تھا۔اُس نے چاہا کہ وہ کسی کے پاس امانت رکھ کر جائے تا جب واپس آئے تو روپیہ اُس سے لے لے۔یہ خیال آنے پر اس نے سوچا کہ سلطنت کے قاضی سے زیادہ اور کون معتبر ہو سکتا ہے اس کے پاس ہی روپیہ رکھوانا چاہئے۔چنانچہ اس نے قاضی کے پاس تھیلی رکھوا دی۔سفر سے واپس آکر جب اس نے قاضی سے روپیہ مانگا تو وہ صاف انکار کر گیا اور کہنے لگا مجھے تو تم نے کوئی روپیہ نہیں دیا تھا۔وہ کہنے لگا میں آپ کو یاد دلاتا ہوں جب میں نے آپ کو روپیہ دیا تھا اُس دن اس قسم کی مجلس میں آپ بیٹھے ہوئے تھے ، اس رنگ کی تھیلی تھی ، میں آیا اور آپ کو الگ کونے میں لے جا کر میں نے وہ تھیلی دی۔قاضی یہ سب باتیں سن کر انکار کرتا چلا گیا کیونکہ گواہ کوئی موجود نہ تھا اور کہنے لگا نہ میاں تم نے مجھے کوئی روپیہ نہیں دیا۔وہ حیران ہو کر واپس آ گیا اور سوچنے لگا اب روپیہ نکالنے کیلئے کونسی تدبیر اختیار کروں۔آخر اسے یہ خیال آیا کہ بادشاہ کے پاس جا کر فریاد کروں۔بادشاہ ہفتہ میں ایک دن مظلوموں کی فریاد سنا کرتا تھا وہ اس دن بادشاہ کو ملا اور تمام قصہ سنایا اس پر بادشاہ کہنے لگا کہ قاضی بھلا یہ بات کب مانے گا کہ اُس نے تمہارا روپیہ لیا ہوا ہے۔اگر میں اس سے پوچھوں بھی تو چونکہ تمہارے پاس کوئی گواہ نہیں وہ کہہ دے گا کہ میں نے کوئی روپیہ نہیں لیا اگر اس کا دعویٰ درست ہے تو یہ گواہ پیش کرے اس صورت میں تمہیں اپنا دعویٰ ثابت کرنا مشکل ہوگا اور پھر چونکہ اس طرح کی قاضی القضاۃ پر الزام عائد ہوتا ہے اور اس سے ہتک ہوتی ہے اور ممکن ہے وہ کہہ دے کہ اس شخص نے میری ہتک کی ہے اسے سزا دی جائے۔پس یہ طریق تو مفید نہیں کہ میں قاضی سے دریافت کروں ہاں میں تمہیں ایک اور تدبیر بتاتا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو روپیہ تمہیں مل جائے گا۔میرا فلاں دن جلوس نکلنے والا ہے سارے درباری میرے استقبال کیلئے اپنے گھروں سے باہر نکل کر کھڑے ہوں گے۔قاضی القضاۃ بھی اپنے چبوترے پر کھڑا ہو گا تم اُس روز قاضی کے چبوترہ کے ایک طرف کھڑے ہو جانا۔میرا جلوس جب وہاں سے گزرے گا تو میں تمہیں دیکھ کر اپنی سواری