خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 399

خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۶ء رکھنی چاہئے کہ دشمن اگر مارتا ہے تو بیشک مارے مگر تم پر الزام نہ آئے۔میں نے متواتر سمجھایا ہے کہ یہ سوال نہیں کہ تم حق پر ہو اور تم مجرم سے بری ہو بلکہ سوال یہ ہے کہ تمہاری براءت اَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہونی چاہئے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اتَّقُوا مَوَاقِعَ الفِتَنِ ۳۔تم سے میں یہی نہیں کہتا کہ تم فتنہ میں مت پڑو بلکہ میں تمہیں یہ بھی کہتا ہوں کہ تم فتنوں کی جگہوں میں بھی مت جاؤ۔فتنوں کی جگہوں میں نہ جانے کا مطلب یہی ہے کہ دوسرے کو تم پر الزام لگانے کا کوئی موقع میسر نہیں آنا چاہئے۔تمہارے لئے اپنی بہادری جتانے کے بہت سے موقعے ہیں بلکہ بیسیوں مواقع ہیں جن میں تم اپنی بہادری جتا سکتے ہو۔جب دنیا میں خدا تعالیٰ کی عزت قائم کرنے کا سوال ہو یا اُس کے رسول کی عزت قائم کرنے کا سوال ہو تو اصل موقع بہادری دکھانے کا وہ ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ احد کی جنگ میں جب زخمی ہوئے تو کفار میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ رسول کریم و نعوذ باللہ مارے گئے ہیں اس سے قدرتی طور پر ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ان کا لشکر ایک جگہ اکٹھا ہو کر اس بات پر فخر کر رہا تھا کہ ہم نے محمد ( ﷺ ) کو نَعُوذُ بِاللهِ مار دیا ہے اس موقع پر ابوسفیان نے کفار کے لشکر کی طرف سے آواز دی اور کہا۔کہاں ہے محمد ( ) ؟ رسول کریم ہ اس وقت تک ہوش میں آچکے تھے آپ نے جب سنا کہ ابوسفیان کہہ رہا ہے کہ کہاں ہے محمد (ع) اور صحابہ نے اس کا جواب دینا چاہا تو رسول کریم ﷺ نے انہیں منع فرما دیا اور کہا مت جواب دو خاموش رہو۔صحابہ کی طرف سے جواب نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ بات درست ہے کہ محمد ( ﷺ ) نَعُوذُ باللہ مارے گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے خوشی سے نعرہ بلند کیا اور کہا ہم نے محمد (ﷺ) کو مار دیا۔اس کے بعد انہیں قدرتی طور پر خیال پیدا ہوا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص مسلمانوں کو سنبھال سکتا ہے تو وہ ابو بکر ہے اس پر ابوسفیان نے آواز دی کہاں ہے ابو بکر؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جواب دینے لگے تو رسول کریم ﷺ نے منع فرما دیا اور کہا مت جواب دو۔اس پر پھر کفار نے خوشی سے ایک نعرہ مارا اور کہا کہ ہم نے ابوبکر کو بھی مار دیا۔پھر ابوسفیان نے پوچھا کہاں ہے عمر؟ حضرت عمر نہایت تیز مزاج تھے وہ یہ کہنے کو ہی تھے کہ عمر تمہارا سر توڑنے کیلئے موجود ہے کہ رسول کریم ﷺ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا خاموش رہو کیونکہ اُس وقت اسلامی لشکر تتر بتر ہو چکا ہے اور صحابہ سخت زخمی تھے اور رسول کریم ﷺ یہ مناسب نہیں سمجھتے صلى الله