خطبات محمود (جلد 17) — Page 307
خطبات محمود ۳۰۷ کسی وقت جھوٹ بول کر تمہیں سزا ئیں نہیں دلوا سکتے۔سال ۱۹۳۶ء جب خدا کسی قوم کو سزا دینا چاہتا ہے تو سب کچھ کر لیتا ہے اس لئے اطمینان سے نہ بیٹھو کہ تمہارے سر پر تلوار منڈلا رہی ہے۔صرف خدا پر توکل کر و حاکموں کے دل بھی خدا کے قبضہ میں ہیں وہ چاہے تو انہیں نیک بنا سکتا ہے۔پس تم یہ مت کہو کہ خدا ہم سے ضرور یوں معاملہ کرے گا بلکہ خدا والے بنو پھر تمہارے لئے امن ہو گا خواہ وہ انگریزوں سے کرا دے، خواہ ہندوستان میں آئندہ قائم ہونے والی حکومت کے ذریعہ اور خواہ تمہارے اپنے ہاتھوں سے جو سب سے بہتر ہیں مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ غفلتوں اور سُستیوں کو ترک کر دو۔میں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت میں آج گزشتہ سال سے دسواں حصہ بھی جوش نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کیلئے خدا تعالیٰ کوئی لاٹھی بھیجے تو اُن کی آنکھیں کھلتی ہیں۔پچھلے سال لٹھ پڑے تھے تو تم بیدار تھے آج خدا نے ان میں کمی کر دی ہے تو تم پھر سو گئے ہو۔پچھلے سال تحریک جدید کے دو ماہ کے اندر اندر آمد تحریک سے بھی بڑھ گئی تھی مگر اس سال گو وعدے زیادہ ہیں مگر آمد دو تہائی ہے اور اس حساب سے اندازہ ہے کہ سال کے آخر تک ۷۴، ۷۵ ہزار آمد ہو گی مگر خرچ کا بجٹ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ہے۔ممکن ہے میں غلطی پر ہوں مگر میرا خیال یہی ہے کہ یہ ادنی ایمان ہے کہ انسان کہہ دے کہ میں کچھ نہیں کروں گا۔مگر جو کہتا ہے اور پھر کرتا نہیں وہ مؤمن نہیں غدار اور منافق ہے۔میں نے کئی بار کہا ہے کہ کوئی چندہ مت لکھاؤ جو دے نہ سکو۔جبری چندوں کے متعلق تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ زبر دستی لئے جاتے ہیں مگر تحریک جدید کے چندہ کے متعلق تو میں نے صاف کہا ہوا ہے کہ جس کی مرضی ہو وہ دے اور جتنا کوئی چاہے دے پھر بھی جولکھوانے کے باوجود نہیں دیتا وہ یہ بتا تا ہے کہ اُسے دین کی کوئی پرواہ نہیں وہ صرف نام لکھوا کر واہ واہ چاہتا ہے اور یہی بات بڑھتے بڑھتے جنون تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ایک شخص کا مجھے خط آیا ہے کہ گزشتہ سال میں نے اس اس قدر ( شاید میں چالیس) روپیہ کا وعدہ کیا تھا مگر دے کچھ نہیں سکا اس سال میرا وعدہ تین ہزار کا لکھ لیں۔یہ اس MENTALITY اور ذہنیت کا آخری نتیجہ ہے جو انسان کو بے عمل کر دیتی ہے ہر بُرے عمل کا آخری نتیجہ اس کے بھیانک پن کو ظاہر کر دیتا ہے۔ایسا انسان جو وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا