خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۶ رنگ میں کوئی ذکر تک نہیں آیا تھا۔پھر گزشتہ ایام سے برابر ایک تسلسل ایسی فہرستوں کا چلا آتا ہے جن میں مرتدین کے نام لکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر جب ان کے متعلق تحقیق کی جاتی ہے تو کچھ تو واقعہ میں ایسے لوگ ثابت کی ہوتے ہیں جولوگوں کے بہکائے یا ڈرائے سے احمدیت چھوڑ بیٹھتے ہیں مگر یہ بہت قلیل تعداد ہوتی ہے ہے زیادہ تر ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جب ہم ان کے متعلق تحقیق کرتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں تو عرصہ سے ہماری جماعت کا سخت مخالف ہے اس نے کبھی احمدیت قبول ہی نہیں کی۔اس کی کے ارتداد کا اعلان کیسا، پھر فلاں کو جماعت سے خارج ہوئے مثلاً سال دو سال ہو گئے ہیں آج کی اُس کے مرتد ہونے کا اعلان کیا معنے رکھتا ہے، پھر بعض نام ایسے احمدیوں کے بھی ہوتے ہیں جو نہایت مخلص ہوتے ہیں مگر ان کی طرف افتراء کے طور پر یہ بات منسوب کر دی جاتی ہے کہ انہوں نے احمدیت سے ارتداد کیا۔آج ہی میں نے الفضل میں ایک شخص کا اعلان پڑھا ہے وہ کہتا ہے میرا نام بھی احراریوں نے مرتدین میں شائع کر دیا ہے حالانکہ میں خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہوں۔یہ جھوٹ گویا اس قسم کے جھوٹوں میں سے ہے جس میں قدرے سچائی بھی ہوتی ہے یعنی کچھ واقعہ میں مرتد ہو گئے ہوتے ہیں لیکن اکثر نام ایسے ہی لوگوں کے ہوتے ہیں جو یا تو ہماری جماعت کی کے سخت مخالف ہوتے ہیں یا جماعت سے ایک عرصہ سے خارج ہو چکے ہوتے ہیں یا پھر مخلص احمدی کی ہوتے ہیں۔اسی سلسلہ میں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے جو بھی چندہ کی تحریک ہوتی ہے اس کے متعلق احسان“ اور ”مجاہد میں چھاپ دیا جاتا ہے کہ یہ تحریک اس لئے کی گئی ہے کہ مرزا محمود کو فلاں ضرورت پیش آئی تھی اس کیلئے روپیہ درکار تھا اس لئے چندہ کی تحریک کر دی گئی۔پھر اس ضمن میں ان احرار کا ایک چہیتا مضمون ہے۔یعنی وہ ان تمام رقوم کو ایک استانی جی کی خاطر قرار دیتے ہیں جو قادیان صرف ایک دن کیلئے آئی تھی اور یہ دیکھنے آئی تھی کہ وہ یہاں رہا کیا کر کام کر سکتی ہے یا نہیں اور یہ دیکھ کر کہ اس کی لڑکیوں کی تعلیم کا یہاں انتظام نہ ہو سکے گا واپس چلی گئی تھی۔اب جو بھی چندہ کی تحریک ہو وہ اُس کی خاطر سمجھی جاتی ہے اور اس طرح احرار کے نزدیک اب تک لاکھوں روپیہ اس کیلئے جماعت سے لیا جا چکا ہے۔ساٹھ ہزار قرض کی جو تحریک کی گئی تھی وہ وی بھی ان کے نزدیک اسی کیلئے کی گئی تھی۔پھر اور بھی جو تحریکیں ہوتی ہیں وہ اسی کیلئے مجھی جاتی ہیں۔