خطبات محمود (جلد 17) — Page 263
خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۶ کچھ ہو آپ کو سلام تو ضرور کرتا ہے اور اگر آپ نے فتویٰ دے دیا تو وہ اور ان کے دوست آئندہ آپ کو سلام نہیں کریں گے۔اس پر پیر صاحب گھبرا گئے اور کہا کہ بھلا ہم پیروں کا فتووں سے کیا تعلق ہے آپ مولوی صاحب سے کہہ دیں کہ سلام نہ چھوڑیں۔اس دوست نے آ کر حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ میں اس طرح کر آیا ہوں اور اب پیر صاحب چاہیں گے کہ آپ اُن کو سلام کریں۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا کیا حرج ہے کر دیں گے۔چنانچہ وہ دوست پھر پیر صاحب کے کی پاس گئے اور پیر صاحب سے کہا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پیر صاحب بڑے آدمی ہیں ہم ان کو ی سلام کیوں نہ کریں گے۔اس پر پیر صاحب بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھا ہم فلاں روز اس طرف سے گزریں گے مولوی صاحب سے کہنا کہ ضرور سلام کریں۔چنانچہ پیر صاحب حضرت مولوی صاحب کے مطب کے سامنے سے گزرے اور حضرت مولوی صاحب نے اپنے دوستوں سمیت باہر نکل کر اُن کو سلام کیا۔پیر صاحب نے گھوڑا کھڑا کر لیا اور حضرت مولوی صاحب سے باتیں کرنے لگے کہ دیکھو ! ہمارے پاس مولوی لوگ فتوے کیلئے آئے تھے مگر ہم نے انکار کر دیا کہ ہم کو ان باتوں سے کیا تعلق ہے ہمیں سب نے سلام کرنا ہوتا ہے۔یہ واقعہ شہر میں پھیل گیا اور پیر صاحب کے مرید اس تحریک سے الگ ہو گئے اور مخالفت کا زور ٹوٹ گیا۔غرض ابو طالب کیلئے یہ بڑا امتحان کی تھا وہ سارے شہر میں مکرم سمجھے جاتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب اُن کی عزت جاتی رہے گی انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے ! میں سمجھتا ہوں کہ تو جو کرتا ہے سچ سمجھ کر کرتا ہے اور میں نے بھی ہمیشہ تیری مدد کی ہے اور تجھے دشمنوں سے بچایا ہے مگر اب میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں اور کہا ہے کہ یا تو اپنے بھتیجے سے کہو کہ تبلیغ میں نرمی کرے اور یا پھر اس سے قطع تعلق کر لو اور اگر میں ایسا نہ کروں تو قوم میرے ساتھ قطع تعلق کر لے گی اور تو جانتا ہے کہ قوم کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے اب تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ رسول کریم ﷺ نے جس وقت یہ بات سنی آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چچا ! میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے مگر سچائی کے مقابلہ میں میں آپ کی بات مانے کو تیار نہیں ہوں اگر دشمن میری دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند لا کر کھڑا کر دیں تو بھی میں تبلیغ میں نرمی نہیں کروں گا اور توحید کی اشاعت سے باز نہیں رہوں گا۔میں آپ کیلئے ہر قربانی کرنے کو تیار ہوں لیکن یہ بات