خطبات محمود (جلد 17) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ سال ۱۹۳۶ء کہہ دیتا ہے کہ کیوں نہیں مسٹر کھوسلہ نے ایسا لکھا ہے۔عدالت کا فیصلہ ہے یہ کوئی احراریوں کا الزام تو نہیں اور بھی ایسے بیسیوں سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔اب ان سوالوں کے جواب میں ہمارے لئے دو ہی رستے کھلے ہیں۔یا تو کہہ دیں کہ ہمارا سلسلہ واقعہ میں جھوٹا ہے اور ہم آپ کے ہاتھ پر تو بہ ہی کرنے آئے ہیں اور یا یہ کہ یہ الزام جھوٹ ہے اور اس کا یہ ثبوت ہے۔اب حکومت ہمیں بتا دے کہ ان دونوں باتوں میں سے وہ کونسا جواب ہم سے چاہتی ہے اور یا پھر کوئی تیسرا جواب بتا دے۔جھگڑا تو وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی ضد کرے مگر میں تو حکومت سے ہی سوال کرتا ہوں حکومت خود ہی کی ہمیں اس مصیبت سے بچنے کا ذریعہ بتا دے۔آخر یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے کہ چونکہ یہ امور عدالت کے فیصلہ میں آگئے ہیں سلسلہ احمدیہ جھوٹا ہے۔آخر ہم یہی کر سکتے ہیں کہ کتب و رسائل کے ذریعہ سے ان امور کی تردید کریں جو اس فیصلہ میں ہماری طرف منسوب کئے گئے ہیں لیکن اگر یہ طریق کی حکومت کے نزدیک معیوب ہے تو پھر وہ خود ہی کوئی علاج ہمیں بتائے۔اگر وہ صبر کی تلقین کرتی ہے تو کس رنگ میں صبر چاہتی ہے۔کیا ہم یہ کہیں کہ واقعات تو صحیح ہیں اور احمدیت جھوٹی ہے مگر با وجود ای اس کے ہم احمدیت کو نہیں چھوڑ سکتے۔یا ہم اس رنگ میں صبر کریں کہ جب کوئی اس فیصلے کا حوالہ دے تو اسے کہہ دیں کہ ہم تو بہ کرتے ہیں۔اگر اس کے سوا بھی صبر کا کوئی طریق ہے تو وہ ہمیں بتادیا جائے۔جلدی نہیں اپنے مشیروں اور وکیلوں، جوں سے پوچھ کر بتا دے کہ یہ طریق تمہارے لئے کھلا ہے۔حکومت ہمارے اس سوال پر دیانتداری سے غور کرے کہ اگر کسی مذہب کی یہ پوزیشن ہو تو کیا وہ امید کر سکتی ہے کہ اس کی غلطی کی عزت رکھ لی جائے اور صبر کیا جائے۔کیا وہ یہ کہہ سکتی ہے کہ آپ ہمارے دوست ہیں ہماری اس غلطی کو نباہنے کیلئے اپنا مذہب چھوڑ دو۔موجودہ پوزیشن میں وہ اس بات کے سوا ہم سے کیا امید رکھ سکتی ہے لیکن اس بات سے زیادہ غیر معقول بات اور کیا ہے ہوسکتی ہے۔بے شک بعض لوگ ایسا مطالبہ بھی کرلیا کرتے ہیں لیکن ہم حکومت سے ایسی امید نہیں کر سکتے۔مجھے ایسے مطالبہ کے متعلق ایک واقعہ معلوم ہے اس واقعہ کا راوی بھی زندہ ہے اور جس کے متعلق ہے وہ بھی زندہ ہے اور دونوں اپنے اپنے محکموں کے چوٹی کے افسر ہیں اس لئے کی میں ان کے نام نہیں لیتا۔واقعہ یہ ہے کہ ایک کالج کے پرنسپل نے ایک شخص کی سفارش کی کہ اُسے پروفیسری کے عہدہ پر رکھ لیا جائے۔جب وہ سفارش ایک بالا افسر کے پاس پہنچی تو اس نے کہا یہ