خطبات محمود (جلد 17) — Page 229
خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۶ ہو گا کہ سزا میں زیادتی نہ ہو بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کی ہتک اگر ہوتی ہے تو بیشک ہو بالکل خلاف عقل بات ہے۔اگر ہم نے شرافت کی وجہ سے یہ کہا کہ ہم سزا میں زیادتی نہیں چاہتے تو کیا اس شرافت کا نقصان ہمیں پہنچنا چاہئے تھا۔اگر ہم حکومت کو مشکلات سے بچانے کے لئے قربانی کرنے کو تیار تھے تو کیا اس کا یہی فرض تھا کہ ہماری مشکلات میں اضافہ کر دیتی اور ہمیں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیتی۔اور ان باتوں کا باقی رہنا تو ہمارے لئے پھانسی سے بھی زیادہ ہے اگر ہم نے کہا تھا کہ سزا میں اضافہ نہ ہو تو جماعت احمدیہ حکومت سے لڑتی نہیں رہے گی تو اس کا یہ مطلب کس طرح ہو گیا کہ ہم پر جو اعتراض کئے گئے ہیں ہم انہیں بھی دور کرانا نہیں چاہتے۔حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ درخواست دیتی کہ سزا بڑھائی جائے اور سرکاری وکیل کہہ دیتا کہ یہ درخواست رسمی طور پر اس لئے دی گئی ہے کہ واقعات پر بحث کی جائے ورنہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ سزا میں کوئی حقیقی اضافہ ہو یہ باتیں روز ہائی کورٹ میں ہوتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ اس طرح نگرانی کرنے میں ہائی کورٹ ضرور سزا میں اضافہ کر دے ایسے موقعہ پر حج مدعی کی خواہش کے مطابق واقعات کا فیصلہ کر دیتا اور سز انہیں بڑھاتا۔کیا حکومت کو اس بات کا علم نہیں تھا جس نے یہ قانون بنائے ہیں۔پس اگر خانصاحب نے وہ بات کہی ہے تو یہ بتانے کیلئے جماعت احمدیہ حکومت کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی اور مولوی عطاء اللہ صاحب سے بھی اسے کوئی بغض نہیں۔یہ ہماری شرافت تھی جسے پھانسی کا دی پھندا بنا کر حکومت ہمارے گلے میں ڈالنا چاہتی ہے اور ہماری نیکیوں کا خمیازہ بھگتنے پر ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے حکومت کا فرض ہے کہ ہماری مشکلات کو سمجھے اس کے بغیر وہ کسی صحیح نتیجہ پرنہیں پہنچ سکتی۔جماعت احمد یہ ہمیشہ امن پسند رہی ہے اور اب بھی اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر حال میں امن پسند رہے گی جس رنگ میں جماعت کے مقدس بانی علیہ الصلوۃ والسلام اور دوسرے بزرگوں پر حملے کئے جاتے ہیں جیسی گندی گالیاں دی جاتی ہیں کیا بالکل ویسی ہی باتوں پر دوسری قوموں نے خون نہیں کئے۔ہم بزدل نہیں مگر خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ روکے ہوئے ہیں اگر دس ہیں احمدی دس ہیں احراریوں کو مار دیتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ حکومت فوراً توجہ نہ کرتی مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امن پسندی کی تعلیم کو زندہ رکھا اور میں بار بار خطبات میں جماعت کو توجہ دلاتا رہا کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آنا اور امن پسندی کا سبق بھول نہ جانا۔حالانکہ یہ میرا فرض