خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 219

خطبات محمود ۲۱۹ ۱۳ سال ۱۹۳۶ مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کا فیصلہ اور جماعت احمدیہ ہم حضرت مسیح موعود کی ہتک کے ازالہ کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کیلئے تیار ہیں (فرموده ۱۷ را پریل ۱۹۳۶ء) تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں پہلے تو جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ شاید پھر کوئی ابتلاء آنے والا ہے کیونکہ میں نے آج رؤیا دیکھا ہے کہ میں ایک گھر میں ہوں جو قادیان کا ہی ہے وہاں بہت سے احمدی مرد اور عورتیں جمع ہیں۔عورتیں ایک طرف ہیں غالباً برقعہ وغیرہ پہن کر بیٹھی ہیں یا اوٹ ہے میں نے اس طرف دیکھا نہیں لیکن ایک طرف مرد ہیں اور ایک طرف عورتیں۔چوہدری کی مظفرالدین صاحب جو کچھ عرصہ پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے ہیں اور اب بنگال میں مبلغ ہو کر گئے ی ہیں وہ اور ایک اور آدمی گھبرا کر کھڑے ہوئے جلدی جلدی بلند آواز سے میری توجہ کو ایک طرف پھیرا نا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ دیکھئے کیا ہے۔وہ دیکھئے کیا ہے۔وہاں ایک چوہیا دوڑی جا رہی ہے۔لوگ اُسے مار رہے ہیں اور میری توجہ اس طرف ہے لیکن چوہدری صاحب اور ان کا ایک ساتھی مجھے دوسری طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور آواز میں دے رہے ہیں۔ان کے توجہ دلانے پر میں نے اس طرف دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ ایک جگہ دیوار شق ہے اور ایک چوہیا وہاں سر کے بل