خطبات محمود (جلد 17) — Page 19
خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۶ء پنے متعلق بھی فرمایا ہے کہ میں وہ پتھر ہوں جسے معماروں نے رڈ کر دیا وہی کونے کا پتھر بنا ہے۔تو کی کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز سامنے آتی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے قابل نہیں لیکن وہی ہے ظاہری ناقابل سمجھی جانے والی چیز ایک اور جگہ قابل ثابت ہو جاتی اور اُس کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔اسی طرح بالکل ممکن ہے ہمارے بعض نوجوان یہاں دس روپیہ بھی نہ کما سکیں مگر باہر ملکوں میں نکل کر کسی حکومت میں وزیر بن جائیں، کسی جگہ جرنیل بن جائیں یا کسی طوائف الملو کی کی حالت میں وہ وہاں کے بادشاہ ہی ہو جائیں۔یہ اچنبھے کی بات نہیں۔تاریخ میں اس قسم کی ہزار ہا مثالیں ملتی ہیں بلکہ تاریخ کا کیا ذکر ہے بڑی چیز ہمارے لئے قرآن ہے اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ دیکھ لو۔وہی یوسف جس کے متعلق اُس کے بھائی یہ اعتراض کرتے تھے کہ اس میں قابلیت تو کوئی نہیں ہمارا باپ بلا وجہ اس سے محبت کرتا ہے جب مصر میں پہنچے تو اُن کی کتنی بڑی عزت ہوگئی۔حضرت یوسف کے بھائیوں کے پاس جو کچھ تھا اور جس قدر ان کے پاس دولت تھی اُس کا اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اونٹ کے بار کی زیادتی جب حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں دے دی تو وہ اسی پر خوشی سے کودنے لگ گے اور کہنے لگے ہمیں بہت غلہ مل گیا ہے۔موجودہ حالات کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں ان کی پندرہ ہیں یا تمہیں روپیہ ماہوار کی آمد تھی اور وہ ہیں یا تمیں روپیہ ماہوار کی آمد سے حضرت یوسف علیہ السلام کو محروم رکھنا چاہتے تھے لیکن دوسرے ملک میں جا کر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قابلیت کے ایسے جو ہر دکھائے کہ سلطنت کے وزیر بن گئے اور لاکھوں نفوس کی پرورش کرنے لگے۔پس اس قسم کی ہزار ہا مثالیں ہیں بلکہ آج بھی ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ لوگ اپنے گھروں سے نکلے اور غیر ممالک میں انہوں نے خاص عزت اور شہرت حاصل کر لی۔یہی مسٹر گاندھی جو ہندوستان کے بہت بڑے لیڈر سمجھے جاتے ہیں انہیں ہندوستان میں عزت حاصل نہیں ہوئی بلکہ ہندوستان میں ناقابل قرار دیئے جانے کی وجہ سے وہ ساؤتھ افریقہ چلے گئے اور وہاں خوب عزت حاصل کی۔پھر وہاں کی عزت اپنے ساتھ لے کر وہ ہندوستان میں آئے اور انہیں ہندوستان میں بھی عزت مل گئی۔پس میں نو جوانوں کو اور نوجوانوں سے میری مراد عمر والا نوجوان نہیں بلکہ ہر ہمت والا