خطبات محمود (جلد 17) — Page 177
خطبات محمود K2 سال ۱۹۳۶ء سات سو ہو گئے ہیں ہمیں اب کون تباہ کر سکتا ہے تو صحابہ کی اُس وقت کی تعداد سے اب ہم کم سے کم دوسو گنے زیادہ ہیں اور ہم محدود نہیں قادیان میں، ہم محدود نہیں پنجاب میں ، ہم محدود نہیں ہو۔پی ای میں، ہم محدود نہیں ہندوستان میں بلکہ ہم افغانستان میں بھی ہیں ، ہم روس میں بھی ہیں ، ہم چین میں ہے بھی ہیں ، ہم جاپان میں بھی ہیں، ہم سماٹرا میں بھی ہیں ، ہم جاوا میں بھی ہیں ، ہم سٹریٹ سیٹلمینٹس میں بھی ہیں ، ہم امریکہ میں بھی ہیں ، ہم افریقہ میں بھی ہیں ، ہم یورپ میں بھی ہیں ، ہم بلا د عربیہ میں بھی ہیں، اسی طرح ہم مشرق میں بھی ہیں اور مغرب میں بھی اور دنیا میں خدا کے فضل سے ہم روز بروز بڑھ رہے ہیں۔پس ہمارے بیج کو کوئی ایک حکومت کوئی دو حکومتیں بلکہ کوئی تین حکومتیں مل کر بھی تباہ نہیں کر سکتیں اور نہ ان کا متفقہ عزم دنیوی طور پر ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور الہی طور پر تو ہم یقینا محفوظ ہیں اور اُس خدا کے ہاتھ میں ہیں جس پر کوئی تلوار نہیں چلا سکتا۔غرض میں سمجھ ہی نہیں سکا کہ ہمارے خلاف یہ کیوں شورش ہے اور اس کی تہہ میں کونسی بات کام کر رہی ہے اور چونکہ میں ہز ایکسی لینسی کا ذکر کر رہا ہوں اس لئے اس دوران میں ایک اور بات بھی بیان کر دینی چاہتا ہوں۔پچھلے سال کے آخر میں اتفاقی طور پر ہمارا یک جگہ اجتماع ہو گیا لی اور ہز ایکسی لینسی کی مہربانی سے ان سے مجھے ملاقات کا موقع مل گیا۔اُن کی گفتگو کا جو اثر اُس وقت کی میرے دل پر تھا وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں پر کامل اعتماد رکھتے ہیں اور وہ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیاری نہیں کہ ہمارے ساتھ بد دیانتی کا سلوک ہوتا ہے۔دوسری طرف میری طبیعت پر یہ اثر بھی تھا کہ وہ وی پوری نیک نیتی کے ساتھ جماعت احمدیہ اور حکومت میں جو اختلاف واقع ہو گیا ہے اسے مٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ذاتی رویہ ان کا نہایت ہی شریفانہ اور ان کے عہدہ کے بالکل مناسب حال تھا۔پس گو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک ان کا نقطہ نگاہ اپنے ماتحتوں کے متعلق نہ بدلے ہم کسی متفقہ اصول پر نہیں پہنچ سکتے لیکن یہ ضرور ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم موجودہ حالات کی ذمہ داری کی ابتداء ان کی طرف منسوب کریں۔پس میرا فرض ہے کہ میں اپنے شکوک وشبہات کو اِدھر اُدھر پھیروں اور ان کا کوئی اور سبب معلوم کروں۔اس ملاقات کے بعد خطبہ میں میں نے اعلان کر دیا تھا کہ بعض حالات ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت میں ایک تغیر ہے۔چنانچہ اس کے بعد کچھ افسر بھی تبدیل کئے گئے اور کچھ لوکل افسر جو قادیان میں شورشیں بر پا کر رہے تھے ان میں بھی کمی