خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 169

خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۶ء ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا کتنا شدید صدمہ تھا مگر باوجود ان جذبات کے میں نے امن کا طریق اختیار کیا اور اس وجہ سے مجھے مسلمانوں سے گالیاں بھی سنی پڑیں۔آج لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا جی مشورہ صحیح تھا اور باوجود اس کے کہ مسلمان لیڈروں کے ہاتھ میں میرا ٹریکٹ پہنچا اور وہ خط بھی جس کی میں تجاویز تھیں مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یاد نہیں کہ آپ کی طرف سے ہمیں کوئی ٹریکٹ اور خط ملا ہو۔اگر ٹریکٹ اور خط پہنچ جاتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم آپ کا مشورہ قبول نہ کرتے۔یہ زمانہ گزرا تو اس کے بعد بھی بیسیوں مواقع ایسے پیش آئے کہ اگر دوسری جماعتوں کو ی وہی مواقع پیش آتے تو وہ کبھی صبر سے کام نہ لیتیں اور ضرور خون ریزی تک نوبت پہنچ جاتی۔مثلاً شہید گنج کے موقع پر جامع مسجد میں پولیس اندر داخل ہونے سے گھبراتی ہے۔مسلمانوں کا ڈکٹیٹر عَلَى الْإِعْلان تقریریں کرتا ہے اور سپاہی ڈرتے ہیں کہ ہم مسجد میں کس طرح جائیں وہ مسلمانوں کا لالی مقدس مقام ہے لیکن ہمارے مقدس مقام میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا گیا۔گورنمنٹ دوسری اقوام کے مقدس مقامات میں بھی تو ایک مرتبہ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کر کے دیکھے اسے پتہ لگ جائے گا کہ وہاں کی خونریزی ہوتی ہے یا نہیں ؟ مگر ہم نے ان تمام باتوں کو برداشت کیا اور میں نے اپنی جماعت کے کی لوگوں کو سختی سے روک کر اُن کے دلوں کا خون کر دیا اس لئے کہ ہماری جماعت کی یہ روایت قائم رہے کہ ہم امن پسند ہیں۔پھر ان تمام حالتوں میں ہمارا رویہ جہاں ایک طرف حکومت کیلئے پر امن کی رہا وہاں ملک سے بھی دوستانہ رہا۔بنگال میں انارکسٹ انگریزوں کے خون سے کھیل رہے تھے میں نے اپنے خرچ پر انارکسٹوں کی اصلاح کیلئے وفد بھیجے اور ان کا نہایت مفید اثر ہوا اور اب جو بنگال میں کام کرنے والے مسلمان موجود ہیں ان کے متعلق تحقیق کر کے دیکھ لیا جائے کہ اب ان کے کیا خیالات ہیں اور کی ایک دو سال پہلے ان کے خیالات کیا تھے۔ہمارے مبلغوں کی اُس وقت کی رپورٹوں سے معلوم کیا لی جاسکتا ہے کہ کس طرح انہیں سمجھا بجھا کر درست کیا گیا اور ان کے خیالات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ خود حکومت کے انگریز افسروں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ہم نے رکن حالات میں انار کسٹوں کی اصلاح کا کام کیا۔جو حالت اُس وقت انگریز افسروں کی تھی اُس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ہمارا ایک آدمی جوانارکسٹوں کی اصلاح کیلئے مقرر تھا وہ ایک دفعہ ایک مشہور ضلع کے انگریز ڈپٹی کمشنر