خطبات محمود (جلد 17) — Page 140
خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۶ء اور جب اُسے اعتبار نہیں تو اُس نے بیعت کیوں کی تھی۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر اسلامی طریق جاری کرے جس کے ذریعہ ہر حقدار کو اُس کا حق مل سکتا ہے غیر اسلامی طریق جاری نہ کرے جو نتائج کے لحاظ سے کسی صورت میں بھی جماعت کیلئے مفید نہیں ہو سکتے۔۔قاضوں کو بھی چاہئے کہ جب وہ قضاء کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہوں اُس وقت وہ چھوٹوں کی اور بڑوں ، افسروں اور ماتحتوں، مزدوروں اور سرمایہ داروں، غریبوں اور امیروں ، کمزوروں اور طاقتوروں کے تمام امتیازات کو مٹا کر بیٹھیں جس طرح خدا تعالٰی مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اور اس کی بادشاہت میں کسی کی حق تلفی نہیں ہو سکتی اسی طرح وہ بھی جزاء وسزا کے مالک ہوتے ہیں انہیں بھی چاہئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس صفت کے انعکاس میں فیصلہ کرتے وقت کسی کی حق تلفی نہ ہونے کی دیں وہ قضاء کے وقت خلیفتہ اللہ ہوتے ہیں اور اُس وقت اُن کے دل پر کسی قسم کا اثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اُن کا دل ایسا ہی غیر کے اثرات سے منزہ ہونا چاہئے جیسے خدا تعالیٰ کا عرش ہوتا ہے اور اگر وہ اس کو نبھا نہیں سکتے تو پھر قضا کا ہر فیصلہ قیامت کے دن ان کے گلے میں لعنت کا طوق بن کر پڑے گا۔قضاء کوئی کھیل نہیں ، تماشا نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ایک مشہور بزرگ جن کی آدھی اسلامی دنیا تابع ہے انہوں نے قضاء کی وجہ سے ہی بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھائی میری مراد اس سے حضرت امام ابو حنیفہ ہیں۔انہیں بادشاہ نے قاضی مقرر کیا مگر انہوں نے کہا میں اس کا اہل نہیں کسی اور کو قاضی بنادیا جائے۔بادشاہ نے زور لگایا مگر وہ انکار کرتے چلے گئے آخر اُس نے انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا وہاں انہیں مارا گیا، پیٹا گیا اور اتنی تی تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ ان کی صحت بگرد گئی اور آخر فوت ہو گئے مگر انہوں نے قضاء کا عہدہ قبول نہ کیا۔ایک اور بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں قاضی القضاۃ یعنی ہائی کورٹ کا چیف جج مقرر کیا گیا۔دوست انہیں مبارکباد دینے آئے تو دیکھا کہ وہ رورہے ہیں۔کسی نے کہا کہ یہ کیا ؟ ہم تو آپ کو مبارکباد دینے آئے تھے۔وہ کہنے لگے مبارکباد کیسی ؟ انہوں نے کہا مبارک باد اس بات کی کہ آپ حکومت کی طرف سے قاضی القضاۃ مقرر ہوئے ہیں۔وہ کہنے لگے یہ مبارکباد دینے کی کون سی بات ہے اس میں تو تمہیں مجھ سے ہمدردی کرنی چاہئے۔ان کے دوست اس بات کو نہ سمجھے تو