خطبات محمود (جلد 17) — Page 124
خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۳۶ء چار کی بجائے تین دیوار میں بنادے یا دیوار میں تو چاروں بنا دے مگر فرض کرو وہ دروازہ نہ رکھے تب بھی اس مکان سے وہ فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا کیونکہ وہ اس مکان میں داخل نہیں ہو سکے گا۔یا دیوار میں بھی بنادے اور دروازے بھی رکھ دے، چھت بھی ڈال دے مگر کواڑ نہ بنائے تب بھی مکان سے وہ پورا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ دروازے کھلے رہنے کی وجہ سے چور آئیں گے اور اس کی چیزیں اُٹھا کر لے جائیں گے۔غرض جب ہم کسی چیز کو بناتے یا اسے حاصل کرتے ہیں تو جی ہمارے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ جو فوائد اس چیز سے مطلوب ہیں آیا وہ اس سے حاصل ہوتے ہیں یا نہیں اور آیا اس چیز کی ساری شقیں کامل ہیں یا نہیں ؟ اگر اس کی تمام شقیں کامل ہوں تو ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ جو فوائد اس چیز سے حاصل ہو سکتے ہیں ہمیں بھی حاصل ہو جائیں گے اور اگر اس کی تمام شقیں کامل نہیں تو ہمیں اس فائدہ کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئے جو تمام شقوں کی کے کامل ہونے کی صورت میں اس سے حاصل ہوسکتا ہے۔اس تمہید کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ جس طرح اس دنیا کی چھوٹی بڑی تمام عمارتوں کی جہات ہیں، دیواریں ہیں، چھتیں ہیں، فرش ہیں ، موریاں ہیں، کھڑکیاں ہیں، دروازے ہیں، الماریاں ہیں اور روشندان ہیں اسی طرح مذاہب کے بھی چھت ہیں ، مذاہب کی بھی دیوار میں ہیں کی اور مذاہب کے بھی دروازے کھڑکیاں، روشندان ، کھونٹیاں اور فرش وغیرہ ہیں اور مذہب بھی کسی ایک چیز کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس نام کے اندر بہت سی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔اگر وہ مشمولہ اشیاء اپنی اپنی جگہ پر موجود ہوں تو ان فوائد کا حاصل ہونا یقینی ہوتا ہے جو مذہب پر عمل کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہو سکتے ہیں اور اگر وہ مشمولہ اشیاء نہ ہوں تو ان فوائد کا حاصل ہونا بالکل غیر معقول اور خلاف عقل ہوگا۔ہم لوگ جو مسلمان کہلاتے اور قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرنے کے مدعی ہیں اس زمانہ میں ہماری حالت عجیب قسم کی ہے۔قرآن کریم کے احکام کے دو حصے ہیں ایک حصہ قرآن کریم کے احکام کا وہ ہے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ایک حصہ قرآن کریم کے احکام کا وہ ہے جو افراد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جو حصہ قرآن کریم کے احکام کا افراد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اُس پر ہر جگہ انسان عمل کر سکتا ہے خواہ وہ آبادی میں ہو خواہ جنگل میں ، خواہ میدانوں میں