خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 12

خطبات محمود ۱۲ سال ۱۹۳۶ء لگے تو اس کی ذمہ داری اسی پر ہوگی۔حکومت کے اپنے ریکارڈ اس امر پر گواہ ہیں کہ یہ باتیں غلط ہیں اور ہم انہیں غلط ثابت کریں گے اور ان باتوں کو بھی بھی چھوڑ نہیں سکتے۔ہم اپنے مال ، اپنی کی جانیں ، اپنی اولادیں اور دیگر اشیاء کو حکومت کیلئے قربان کر سکتے ہیں مگر جہاں اسلام اور سلسلہ کی تی عزت کا سوال پیدا ہو گا ہم کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس کے مقابلہ میں ہماری جانیں ، ہماری عزتیں ، ہمارے مال ، ہمارا امن و سکون اور وطن کی محبت غرضیکہ کسی چیز کی بھی کوئی وقعت ہماری نظروں میں نہیں ہوگی اور ہم ہر چیز کو قربان کر کے سلسلہ کی عظمت کو قائم کریں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہی غلط واقعات احرار برابر دُہراتے چلے جاتے ہیں اور حکومت خاموش ہے حالانکہ حکومت کے ریکارڈ سے ان کی تردید ہوتی ہے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود ہم اس لئے چُپ رہیں کہ حکومت خوش ہو جائے۔جہاں خدا کی خوشی کے مقابلہ میں حکومت کی خوشی کا سوال آجائے گا ہم حکومت کی خوشی کی قطعا کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔پس ج چونکہ آج نئے سال کا پہلا جمعہ ہے میں نے یہ بات واضح کر دی ہے تا دوست موجودہ خاموشی سے یہ نہ سمجھ لیں کہ سب باتیں طے ہو گئی ہیں وہ نہ آج طے شدہ ہیں اور نہ گل ہوں گی اور اگر تم کسی وقت بھی ان کو طے شدہ سمجھو گے تو بے غیرت ہو جاؤ گے اور میری تمہارے لئے اور اپنی اولاد کی کیلئے بھی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے غیرتی سے بچائے اور قربانیوں کی توفیق دے۔میں تو یہ پسند کروں گا کہ میرا ایک ایک بچہ مرجائے اور میں بے نسل رہ جاؤں بجائے اس کے کہ سلسلہ کی عزت کے سوال کے موقع پر وہ بے غیرتی دکھائے۔پس یہ خاموشی اور وقفہ تمہارے کام اور اغراض کو تمہاری نظروں سے اوجھل نہ کر دے۔خوب یا د رکھو کہ خدا کے سلسلہ کی ہتک کی گئی ہے اور تمہارا فرض ہے کہ جان و مال اور عزت و آبرو سب کچھ قربان کر کے اسے قائم کرو اور میں مخلصین جماعت سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کریں گے مگر ان کا طریق وہ نہ ہوگا جو مذہب یا دیانت و امانت کے خلاف ہو۔وہ فساد اور قانون شکنی ہر گز نہیں کریں گے اور دونوں حدوں کو قائم رکھتے ہوئے اُس وقت تک کام کریں گے جب تک اس ہتک کا ازالہ نہیں ہو جاتا اور سلسلہ کی عزت قائم نہیں ہو جاتی۔بے شک اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اس کی عزت ہے لیکن ہمارا فرض ہے کہ دنیا کی نظروں میں بھی اس کی عزت قائم کریں ورنہ