خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 113

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء تو پوں نے دور سے ہی انہیں گرانا شروع کر دیا۔پھر وہ قومیں دنیا میں پھیلنے لگیں جو تو ہیں رکھتی تھیں اور منجنیقوں والی کمزور ہونے لگیں۔پھر بندوقیں نکلیں جن کا ابتدا میں چلانا بہت محنت طلب تھا۔اس بات کی ضرورت ہوتی تھی کہ پہلے انہیں بھرا جائے اور پھر مضبوطی سے کسی جگہ باندھ دیا جائے اور پھر فیتہ سے آگ دی جائے۔اس کے بعد توڑے دار بندوقیں بن گئیں جنہوں نے پہلے کی نسبت تباہی اور خون ریزی آسان کر دی۔پھر کارتوس والی بندوقیں بن گئیں اور ان کے بعد میگزینوں کی والی اور ہر وہ قوم جس نے ترقی کی طرف قدم نہ اٹھایا برباد ہوتی گئی۔مسلمانوں کے علماء کہلانے والوں نے جس طرح ہندوستان میں مغربی علوم کی تحصیل کو کفر قرار دے کر مسلمانوں کو تباہ کیا اسی طرح بعض علماء نے مسلمان حکومتوں کو تو پوں اور بندوقوں کے استعمال سے بھی روکا۔بخارا کی حکومت ایک وقت اس قدر ز بر دست تھی کہ ایک طرف اس نے ڈینیوب اے کے کناروں تک جو وسط یورپ میں ہے تاخت و تاراج کیا اور تمام یورپین حکومتوں کو زیرز بر کر ڈالا اور دوسری طرف اس کے بیڑے جاپان کے ساحل تک پہنچ گئے ، اس حکومت کا خاتمہ بھی ایسے ہی علماء کے فتووں سے ہوا۔روس کی افواج مُہلک ہتھیاروں سے مسلح تھیں لیکن مسلمان علماء نے فتویٰ دے دیا کہ آگ سے عذاب دینا اسلام میں جائز نہیں اس لئے تو پوں اور بندوقوں کا استعمال نا جائز ہے حتی کہ بڑے بڑے علماء تو اس بات کو سرے سے تسلیم ہی نہ کرتے تھے کہ ایک میل سے گولے پھینکے جا سکتے ہیں وہ اسے جادو سمجھتے تھے۔اب تو تو پوں کے گولے سو سو میل تک مار کر سکتے ہیں مگر اُس زمانہ میں میل دو میل سے زیادہ نہیں کر سکتے تھے۔آخر جب روسیوں سے لڑائی ہوئی تو تی بادشاہ نے چاہا کہ صلح کر لی جائے مگر علماء نے کہا کہ کفار سے صلح نہیں ہو سکتی آپ مسلمانوں کو لڑنے دیں ہم روسیوں کو رسیوں سے باندھ باندھ کر لائیں گے۔وہ رسیاں اور بکریوں کیلئے پتے جھاڑنے والے آلے لے کر میدان میں پہنچے کہ اس سے انہیں کھینچ کر پھر رسیوں سے باندھ لیں گے لیکن جب روسیوں کی طرف سے گولہ باری شروع ہوئی تو سحر سحر پکارتے ہوئے بھاگنے لگے اور بادشاہ سے جا کر کہا کہ ان لوگوں کو جادو آتا ہے آپ خواہ کچھ کرتے ان کے مقابلہ میں کا میاب نہ ہو سکتے۔روسیوں نے بخارا کا تخت اُلٹ دیا اور حکومت تباہ ہوگئی۔لطیفہ یہ ہے کہ تو پوں کی ایجاد مسلمانوں سے ہی شروع ہوئی اور دنیا میں۔