خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 100

خطبات محمود 100 سال ۱۹۳۶ء نے کہا ہے کہ اگر کوئی وہ عمل کرے تو میں ضرور اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں اور وہ دعا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے اَمنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ ہے۔وہ کونسی ہستی ہے جو بندہ کی دعائے مضطر سن کر بے تاب ہو کر اُس کے پاس آجاتی ہے؟ فرمایا وہ میں ہوں۔تو یہ عمل سب اعمال سے زیادہ طاقتور ہے کیونکہ طاقتور دراصل وہی عمل ہے جس میں سب بنی نوع انسان شامل ہوں اور جو عمل تمام روئے زمین کے انسانوں کو مساوات کے میدان میں لے آئے۔نماز میں امتیاز ہو سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور دوسرا بیٹھ کر روزہ میں امتیاز ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک شخص میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو مگر دوسرے میں نہ ہو تبلیغ میں امتیاز ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک کو تبلیغ کرنی آتی ہو اور دوسرے کو نہ آتی ہو یا وہ علم نہ رکھتا ہو یا تبلیغ کی طاقت نہ رکھتا ہو، اسی طرح جہاد، تربیت اور لین دین کے معاملات میں امتیاز نظر آجائے گا اور وہ مجبوری کا امتیاز ہوگائی مگر دعا میں مجبوری کا کوئی امتیاز نہیں ہاں مرضی کا امتیاز ہو سکتا ہے۔لیکن بہر حال دعا ایک ایسی چیز ہے کہ وہ گونگا جس کی زبان نہیں ، وہ بہرہ جس کے کان نہیں ، وہ مفلوج جس کے جسم کی حسس ماری گئی ہوا اور گوشت کا ایک لوتھڑا بن کر چار پائی پر پڑا ہوا ہو وہ بھی اُسی جوش و خروش سے اپنے رب کے حضور دعا کا ہدیہ پیش کر سکتا ہے جس طرح ایک تندرست اور طاقتور انسان اور اس عمل میں کی بنی نوع انسان میں قطعاً کوئی امتیاز نہیں۔ایک چارپائی پر پڑا ہوا بے حس انسان بھی جس میں حرکت کرنے کی تاب نہیں اپنے خدا کے حضور دعا کے ذریعہ عقیدت کا ہدیہ پیش کر سکتا ہے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کر سکتا ہے جس طرح اور انسان جو نماز پڑھتے ، روزہ رکھتے اور احکام اسلامی پر عمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پس دعا وہ چیز ہے جس نے دنیا کے تمام چھوٹوں اور بڑوں اور امیروں اور غریبوں کو ایک سطح پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض صوفیاء نے کہا اسلام دُعا کا نام ہے اور دُعا اسلام ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام دنیا میں مساوات قائم کرنے کیلئے آیا ہے مگر وہ کونسا عمل ہے جو سب کو مساوات بخشتا ہے۔نماز سب میں مساوات قائم نہیں کرتی کیونکہ عورتوں پر کچھ دن ایسے آتے ہیں جب وہ نماز کی ادائیگی سے معذور ہو جاتی ہیں۔پھر جب انسان بوڑھا ہو جائے تو کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اور زیادہ کمزور ہو جائے تو مسجد میں نماز کیلئے نہیں آسکتا۔اسی طرح حج ہے، زکوۃ