خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 83

خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۵ء سے دانت ہلنے لگ گئے اور میں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح بیماری سے دانت گر کر وہ خواب پوری ہو جائے گی اور اس کے معنی لمبی عمر کے نہیں ہوں گے مگر دوسرے تیسرے دن وہ پھر اپنی جگہ قائم ہو گئے۔تو تعبیر میں ایسے رنگ میں ہوتی ہیں کہ کوئی شخص قبل از وقت نہیں کہہ سکتا کہ خواب کس رنگ میں پورا ہو۔پھر میں نے اس کا اظہار کیوں کیا یہ میں آگے چل کر بیان کروں گا لیکن یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ خواب کے ساتھ جب تک علامتیں ایسی نہ ہوں یا واضح طور پر بتا نہ دیا جائے کسی ایک معنی پر حصر نہ کرنا چاہئے مثلاً اگر ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کے دانت گر گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایسی علامتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں یا الہا ماً اسے بتا دیا جاتا ہے کہ عمراب ختم ہے تو بے شک اس خواب کی تعبیر یہی سمجھی جائے گی لیکن اگر یہ نہ ہو تو صرف دانت گرنے سے یقینی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ موت واقع ہو نیوالی ہے۔تو بعض جگہ کوئی ایسی بات آجاتی ہے جو اسے قطعی بنادیتی ہے یا کوئی ایسی علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو رؤیا کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس نے انسان کو وسیع دائرہ سے نکال کر ایک چھوٹے دائرہ میں کھڑا کر دیا۔مثلاً ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس کے دانت گر گئے ، اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہوگا، یہ بھی کہ لمبی عمر پائے گا اور گواب بھی یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہوگا یا وہ خود فوت ہوگا اور شبہ باقی رہتا تھا مگر احتمال محدود ہو گیا اور یہ پتہ لگ گیا کہ دو چار باتوں میں سے ایک ضرور ہے حالانکہ انسان کے ساتھ ہزاروں احتمالات لگے ہوئے ہیں اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ رؤیا کا کوئی فائدہ نہیں۔ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ طاعون سے مرے گا اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قتل ہو گا۔یہ بھی کہ اسے کھجلی کی بیماری ہو گی یہ بھی کہ اسے طاعون ہو گا اور یہ بھی کہ دشمن اس پر حملہ کرے گا اور سخت اعتراض کرے گا مگر کیا سارے انسان ان چاروں باتوں میں سے ایک نہ ایک میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں۔لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ چاروں باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اور بھی سینکڑوں نہیں ہوتیں۔پس خواب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی مستقبل کو ہزاروں احتمالات کے دائرہ سے نکال کر چند احتمالات کے اندر محدود کر دیتی ہے پھر کبھی وہ تقدیر مبرم ہوتی ہے اور کبھی اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور بچاؤ کی تدابیر کرے مثلاً ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ اسے بخار چڑھا ہے تو اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ احتیاط نہ کرے گا تو حالت ایسی ہے کہ ضرور