خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 841 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 841

خطبات محمود ۸۴۱ سال ۱۹۳۵ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر کے مختصر سے مختصر خطبہ بیان کر دوں کیونکہ مجھے علم ہوگا کہ ہر شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور اسے کسی وعظ کی ضرورت نہیں۔پس جس دن تم یہ سمجھنے لگ جاؤ گے کہ تم دنیا میں خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہو اور تمہارے سپر دہی یہ کام ہے کہ تم ساری دنیا میں احمدیت پھیلاؤ اُس دن کسی نصیحت ، کسی لیکچر کی ضرورت نہ رہے گی تم خود خدا تعالیٰ کی چلتی پھرتی تلوار میں ہو گے جو آپ ہی آپ ضلالت اور کفر و شرک کی گردنیں کاٹتی پھریں گی۔یاد رکھو! وعظ ونصیحت سے اُسوقت تک کچھ نہیں بنتا جب تک دلوں میں تغیر پیدا نہ کیا جائے۔اور جب تک یہ سمجھا نہ جائے کہ ہم پر اشاعت دین کی ذمہ داری ہے۔جب تک یہ تغیر پیدا نہیں ہوتا وعظ و نصیحت کی ضرورت رہتی ہے۔اور جب لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہیں اور ہمارا اپنا کام ہے کہ بغیر کسی تحریک کے خود بخود کام کرتے چلے جائیں۔وہ دن ترقی کا ہوتا ہے اور اس دن اسے جماعت کو بیدار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔میں نے تحریک جدید کے مالی حصہ کے لئے چندہ کی اپیل کی تھی اسکے متعلق میں نے دیکھا ہے جو لوگ بیدار اور ہوشیار تھے انہوں نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی کہ کب انکی جماعت کی طرف سے مجموعی طور پر چندہ کی فہرست جاتی ہے بلکہ اُنہوں نے تحریک سنتے ہی اپنے وعدے لکھوا دیئے اور جن جماعتوں میں ایسے آدمی کم تھے اُن کی طرف سے اب آہستہ آہستہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نام پہنچ رہے ہیں۔مگر جو جو شیلے تھے انہوں نے جھٹ پٹ اپنے نام بھجوا دیئے اور سمجھ لیا کہ بعد میں جماعت کے چندہ دہندگان میں بھی اپنا نام لکھا دیں گے سستی کر کے اپنے ثواب کو کیوں کم کریں۔یہ آگ جس دن ایک یادو کے دل میں نہیں بلکہ تمام لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی اُس دن تمام وعظ دل سے پیدا ہو نگے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہارے دلوں میں بیٹھ کر آپ تمہاری راہ نمائی کریں گے مگر وہ جن کے دلوں میں یہ آگ نہیں وہ ایک بیل گاڑی کی طرح ہیں جسے کھینچنے کے لئے بیلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یا گھوڑے گاڑی کی طرح ہیں جس کے آگے جب تک گھوڑے نہ جوتے جائیں حرکت نہیں کر سکتی۔مگر جن کے دلوں میں آگ پیدا ہو جائے وہ انجن کی طرح ہو جائیں گے جو کسی بیرونی تحریک کے محتاج نہ ہونگے بلکہ اُن کے اندر کی آگ خود بخود انہیں قربانیوں پر آمادہ کرے گی۔پس یہ باتیں صرف سن لینے سے کام نہیں چلتا بلکہ کام اُس آگ کے ذریعہ ہو گا جو تمہارے دلوں میں پیدا ہوگی جب تک جماعت کے افراد کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ سلسلہ کے کاموں کے وہ خود ذمہ دار ہیں