خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 804 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 804

خطبات محمود ۸۰۴ سال ۱۹۳۵ء مشاغل سے بالکل فارغ ہو جاتا ہے۔پس میں پھر جماعت کے دوستوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ یا تو وہ تبلیغ کے لئے کچھ وقت یا پورے وقت کو پیش کریں یا وجہ بتا ئیں کہ وہ کیوں ایسا نہیں کرتے۔تم سے یہ سوال میں نے آج پوچھا ہے لیکن اپنے ایک بچہ سے آج سے چار پانچ مہینہ پہلے یہ سوال کیا تھا حالانکہ وہ تعلیم میں مشغول ہے کہ وجہ بتاؤ تم نے اپنا نام تبلیغ کے کئے کیوں پیش نہیں کیا ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ اعلان دوسروں کے لئے ہی ہوتے ہیں اور تمہارے لئے نہیں۔اگر میں تمہیں حکم نہیں دیتا تو اس لئے کہ تم میرے حکم سے دین کی خدمت کرنے کی وجہ سے ثواب سے محروم نہ ہو جاؤ اور چاہتا ہوں کہ نیکی کی تحریک تمہارے اپنے دل میں پیدا ہو۔تمہارا فرض تھا کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرتے۔تو یہ سوال میں اپنے لڑکوں سے پہلے پوچھ چکا ہوں اور آج باقی لوگوں سے کہتا ہوں کہ اپنے نفسوں سے پوچھ کر بتاؤ کہ کیوں اس حکم پر تم عمل نہیں کرتے۔یا تو کہو کہ تبلیغ ضروری نہیں یا احمدیت کی صداقت ہم پر ظاہر نہیں ہوئی یا یہ ثابت کرو کہ اس کے نتیجہ میں تم خدا تعالیٰ کی رضا کے امیدوار نہیں ہو۔جو شخص ان باتوں میں سے کوئی بات کہہ دے میں اُس پر جبر نہیں کر سکتا۔لیکن اگر احمدیت کچی ہے، اگر قرآن کریم کے ان احکام پر عمل ضروری ہے، اگر اس کے نتیجہ میں انعام حاصل ہونے پر تمہارا ایمان ہے تو پھر بتاؤ کہ خدا تعالیٰ سے تم یہ تمسخر کر رہے ہو یا نہیں کہ کہتے کچھ ہوا ور کرتے کچھ ہو۔صحابہ کرام میں سے تو ایک بڑے حصہ نے اپنے وطن دین کے لئے چھوڑ دیئے اور میں تو تم سے صرف ایک یا دو مہینہ وقف کر دینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔یاد رکھو یہ مطالبہ میری طرف سے نہیں بلکہ خدا نے میرے ذریعہ سے یہ مطالبہ کیا ہے تا پتہ لگ جائے کہ تم میں سے کتنے ہیں جنہیں اگر وطن چھوڑ دینے کے لئے بلایا جائے تو وہ اس کے لئے تیار ہوں گے۔جس طرح ریز رو فورس کو سال میں ایک مہینہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے یہ ٹرینگ بالکل اسی طرح کی ہے اور جو شخص ایک مہینہ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اُس کے متعلق امید کی جا سکتی ہے کہ اگر بارہ مہینوں کی ضرورت ہوئی تو بھی وہ ضرور اپنے آپ کو پیش کر دے گا۔لیکن جو لوگ ایک مہینہ کے لئے بھی اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے ، اُن کو میں کس طرح ایسے لوگوں کی فہرست میں شامل کر سکتا ہوں جن کے متعلق یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ اپنے وطنوں کو چھوڑ دیں گے۔