خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 75

خطبات محمود ۷۵ سال ۱۹۳۵ء آپ جانتے ہیں میرے والد صاحب اگر چہ غریب ہیں مگر سارے ہندوستان میں ان کا شہرہ ہے، بڑے بڑے عالم ان کے شاگرد ہیں، انہوں نے عربی پڑھی مگر انگریزی نہ پڑھی۔ایک دفعہ یہ ریل پر سوار ہونے گئے اور تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا۔اس زمانہ میں قریبا سب ہی لوگ تھرڈ کلاس میں سوار ہوتے تھے اور مولوی تو کسی صورت میں انٹریا سکینڈ کلاس میں نہیں بیٹھتے تھے۔ان سے غلطی یہ ہوئی کہ چونکہ انہیں پتہ نہ تھا تھرڈ کلاس کا کمرہ کونسا ہے اور سکینڈ کا کونسا ، یہ غلطی سے ایک فسٹ یا سیکنڈ کلاس کے کمرہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور اندر بیٹھنے لگے اتفاقاً وہاں ایک ٹکٹ کلکٹر آ گیا اس نے جب دیکھا کہ یہ بظاہر معمولی حیثیت کا آدمی سکینڈ کلاس میں بیٹھنے لگا ہے تو کہنے لگا ٹکٹ دکھاؤ انہوں نے ٹکٹ دکھایا تو تھرڈ کلاس کا تھا وہ کہنے لگا دیکھتا نہیں یہ کمرہ سیکنڈ کا ہے اور ٹکٹ تھرڈ کلاس کا ہے۔ٹکٹ کلکٹر کا اتنا کہنا ہی تھا کہ والد صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور وہ اسٹیشن چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ڈر کے مارے آدھ میل تک بھاگتے چلے گئے حالانکہ اگر ٹکٹ کلکٹر نے انہیں کچھ کہہ دیا تھا تو انہیں گھبرانے کی کیا ضرورت تھی۔مجھے اس دن سے معلوم ہو گیا کہ یہ انگریزی نہ جاننے کی سزا ہے اور میں نے عہد کر لیا کہ چاہے یہ مجھے قتل کر دیں، ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، میں نے عربی نہیں پڑھنی۔پڑھنی ہے تو انگریزی ہی پڑھونگا۔نہیں تو گھانس کھود کر گزارہ کرلوں گا۔تو اسی قسم کا ڈر ان لوگوں کا بھی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ سیاست میں حصہ لیں تو اس سے کیا غضب ہو جائے گا۔اگر میں یہ کہتا ہوں کہ اٹھو اور گورنمنٹ کے خلاف شورش اور فساد کرو اور کانگرس میں شامل ہو جاؤ تب بھی ان کیلئے ڈرنے کی کوئی بات نہ تھی کیونکہ حکومت تمام کا نگرسیوں کو نہیں پکڑتی بلکہ انہیں گرفتار کرتی ہے جو پکٹنگ کرتے یا بائیکاٹ کرتے ہیں ورنہ کھلے بندوں کا نگری پھرتے ہیں اور گورنمنٹ کا کوئی قانون انہیں گرفتار نہیں کر سکتا۔پس اگر میں یہ بھی کہہ دیتا کہ کانگرس میں شامل ہو جاؤ تب بھی ڈرنے کی کوئی بات نہیں تھی ہاں اگر میں یہ کہتا کہ پکٹنگ کرو یا نمک بناؤ یا سول ڈس او بیڈ ٹینس (CIVIL DISOBEDIENCE کا ارتکاب کرو تو بے شک وہ گھبرا اسکتے تھے لیکن کہا تو میں نے وہ جس سے زیادہ گورنمنٹ کے منسٹر کرتے رہتے ہیں اور ڈرنے یہ لگ گئے۔بلکہ منسٹر تو صرف قانون دیکھتے ہیں اور میں نے کہا کہ شریعت کی بھی پابندی کرو جس میں قانون سے زیادہ امور کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔پھر میں نے یہ بھی کہا ہے کہ سلسلہ کی روایات کا احترام مد نظر رکھو اور اس طرح بھی کئی قسم کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔پس جو منسٹر کام کرتے ہیں جب ان سے بہت زیادہ شرطیں میں نے اپنی