خطبات محمود (جلد 16) — Page 769
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کی عزت اور اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ خاص احتیاط سے کام لیا جائے۔پس یا تو آپ لوگ جماعتی ذمہ واری سے سلسلہ کو آزاد کر دیں اور جو چاہیں کریں۔اور یا پھر اپنے پر یہ پابندی کر لیں کہ صرف اُنہی لوگوں سے لین دین کیا جائے جو ہم سے تعاون اور صلح رکھنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے کہا میں آپ لوگوں کو کسی خاص طریق پر مجبور نہیں کرتا ہاں چونکہ آپ لوگوں نے خود میرے پاس بیان کیا ہے کہ بعض ہندوؤں نے اپنی چھا بڑیاں زمین پر پھینک دیں اور مشہور کر دیا کہ احمدیوں نے انہیں لوٹ لیا حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی۔اسی طرح آپ لوگ ہی یہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے فتنہ پردازی کے لئے یہ خبر مشہور کر دی کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں اور اس طرح احمدیوں کو اشتعال دلوا کر لڑوانا چاہا۔پس اگر آپ لوگ جو کچھ کہتے ہیں صحیح ہے تو میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو میں اُس جگہ جانے کی اجازت نہیں دے سکتا جہاں اس قسم کے فتنہ کے سامان پیدا کئے جا رہے ہیں۔آپ لوگوں میں سے کوئی شخص اپنی ذمہ داری پر اُدھر جائے تو میں اُسے روکنا نہیں چاہتا لیکن وہ اپنا آپ ذمہ وار ہوگا۔جماعت اس کے متعلق کسی قسم کی ذمہ واری لینے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ جماعت بحیثیت جماعت ایسے فتنوں کے وقت میں آپ کی مناسب امداد کرے تو پھر آپ اقرار کریں کہ آپ ان لوگوں سے سودا نہیں خریدیں گے کہ جو اس قسم کے فساد کھڑا کرتے ہیں۔صرف اُن لوگوں سے سو دا خریدیں گے جو آپ کے ساتھ شریفانہ طور پر تعاون کرنا چاہیں گے۔چنانچہ اُسی وقت ایک رجسٹر کھولا گیا اور میں نے کہا جو لوگ یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ اپنا سو دا صرف احمدی دُکانداروں سے یا دوسری اقوام کے ان دُکانداروں سے خریدیں گے جو ہم سے تعاون کا اقرار کریں ، وہ اس میں اپنا نام لکھ دیں۔اور جو چاہتے ہیں کہ وہ اپنے افعال کے آپ ذمہ دار بن سکتے ہیں یا ا سب ہندوؤں سے وہ سو دا خریدنا چاہتے ہیں۔اور ہندوؤں اور سکھوں میں انہیں رسوخ حاصل ہے جس کی وجہ سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ، وہ اپنا نام الگ لکھا دیں۔اس پر صرف سات احمد یوں نے کہا کہ ہم ہندوؤں سے سو دا خریدیں گے۔لیکن باقی سب نے کہا کہ خطرہ حقیقی ہے اور ہم ان ہندوؤں سے سودا نہیں خریدیں گے جو ہمارے ساتھ معاہدہ میں شامل نہ ہوں۔اس معاہدہ کے مطابق صرف ایک ہندود کا ندار معاہدہ میں شامل ہو ا باقی نے انکار کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین مہینہ میں ہی احمد یوں کی گئی دُکانیں گھل گئیں اور اُس وقت سے ترقی کرتے کرتے آج یہ حالت ہے کہ قادیان کی تجارت کا اتنی