خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 768 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 768

خطبات محمود ۷۶۸ سال ۱۹۳۵ء رہے ہیں۔مثلاً قادیان کی تجارت کا وہ رنگ جو آج سے بیس سال پہلے تھا ، آج نہیں۔آج سے ہیں سال پہلے صرف دو تین احمدی تاجر تھے اور وہ بھی ہمیشہ شکوہ کرتے رہتے تھے کہ ان کا کام نہیں چلتا اور یہ کہ وہ مقروض رہتے ہیں۔اٹھارہ بیس سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارا ایک موروثی مر گیا۔قانونا اس کی زمین ہمیں ملتی تھی ہم نے اُس پر قبضہ کرنا چاہا مگر بعض لوگ جو متوفی کے رشتہ دار نہ تھے جبراً اُس کی زمین پر قبضہ کرنے پر آمادہ ہوئے اور انہوں نے ہمارے آدمیوں کا مقابلہ کیا اور ان پر حملہ آور ہوئے اور پھر انہوں نے اسے ہندو مسلم سوال بنا دیا۔اور یوں شکل دے دی کہ گویا احمدی ہندوؤں اور سکھوں پر ظلم کرتے ہیں حالانکہ مرنے والا ہمارا موروثی تھا اور لا ولد تھا۔اور اس کی زمین ہمیں ہی ملتی تھی چنانچہ جب عدالت میں یہ معاملہ گیا تو ہمارا حق تسلیم کیا گیا اور اب تک ہم اس پر قابض ہیں لیکن اس زمین کے جھگڑے کو قومی سوال بنادیا گیا۔اسی سلسلہ میں ایک مصنوعی فساد کھڑا کر کے یہ مشہور کر دیا گیا کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں۔میں اس قصہ کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کئی دفعہ میں اس واقعہ کو بیان کر چکا ہوں۔بہر حال اُس وقت ایسے سامان پیدا کر دیئے گئے تھے کہ اگر مجھے وقت پر معلوم نہ ہو جاتا تو اُس دن بیسیوں خون ہو جاتے۔مگر میں اُس وقت اتفاقا گلی کے اوپر کے کمرہ میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔اور جب میں نے لوگوں کے دوڑنے کا شور سنا تو انہیں روک دیا۔اُنہی ایام میں ہمارے طالب علم ایک دفعہ بڑے بازار سے گزر رہے تھے تو ایک ہندو مٹھائی کے تاجر نے اپنی چھا بڑیاں زمین پر پھینک دیں اور یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ احمدیوں نے اُس کی دُکان لوٹ لی ہے۔یہ حالات ایسے تھے کہ میں نے سمجھ لیا خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں بیداری پیدا کرنا چاہتا ہے ور نہ کوئی وجہ نہ تھی کہ اس طرح بلا قصور اور خطا جماعت کو بدنام کیا جاتا اور فساد میں مبتلاء کرنے کی کوشش کی جاتی۔اس خیال پر میں نے اسی مسجد میں تمام دوستوں کو جمع کیا اور کہا کہ دیکھو! اگر تم فسادات سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ آئندہ ان لوگوں سے تعلق نہ رکھو کہ جو اس طرح تم کو بدنام کرتے ہیں۔آج اگر انہوں نے مٹھائی کی چھا بڑیاں خود زمین پر گرا کر یہ مشہور کر دیا ہے کہ احمد یوں نے انہیں لیا تو کیا پتہ ہے کہ کل کو کوئی اور تاجر کپڑوں کے تھان گلی میں پھینک کر کہ دے کہ یہ تھان احمدی لوٹے لئے جارہے تھے۔یا اپنی صندوقچی کے متعلق کہہ دے کہ یہ احمدیوں نے تو ڑ ڈالی۔پس چونکہ ایسے حالات رونما ہو گئے ہیں جن سے فتنوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے اس لئے جماعت