خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 736 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 736

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کی تربیت صحیح رنگ میں کی گئی تھی اور یہ ایک علامت ہوتی ہے حکومت کی فرض شناسی کی۔اب بتاؤ کہ اگر ڈ نیوی گورنمنٹوں میں سے جو ہوشیار ہوتی ہیں وہ اپنی فوج کی اعلیٰ تربیت کا خیال رکھتی ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی فوج کے سپاہیوں کو تربیت کے بغیر ہی چھوڑ دے۔پس جب تک تمہارے قلوب میں تغیر نہ ہو گا ، جب تک تمہارے اندر آگ نہ لگ جائے گی ایسی آگ جو تمام خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کر دے ، ایسی آگ جو جہالت ، ستی ، بے دینی اور منافقت کا نشان تک مٹادے اُس وقت تک خدا تعالیٰ دم نہیں لے گا اور نہ مخالفین کی مخالفت میں کمی آنے دے گا۔میں نے گزشتہ سال سے عمداً تحریک جدید شروع کی ہے۔ورنہ میں ۱۹۲۷ء ۱۹۲۸ء سے یہ اعلان کرتا چلا آ رہا ہوں کہ وہ زمانہ قریب آگیا ہے جس میں شیطان اور رحمن کی آخری جنگ مقدر ہے، جس میں تمہیں بہت زیادہ ہوشیار اور بیدار ہونا چاہئے ، جس میں تمہیں بہت زیادہ قربانیاں کرنی چاہئیں اور جس میں تمہیں بہت زیادہ زور اور توجہ سے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔میں نے کہا مگر تم نے میری باتوں کو جنسی میں اُڑا دیا تم نے ایک کان سے ان باتوں کو سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔میں نے تمہیں جگا یا مگر تم نے اپنی آنکھیں بند رکھیں لیکن میرا خدا جو آسمان پر ہے اُس نے میری باتوں کو سنا اور اُس نے تمہاری آنکھیں کھولنے کے لئے احرار کو تم پر مسلط کر دیا پھر اُس نے اُن کی آواز میں قبولیت پیدا کی۔لوگوں کو اُن کی طرف متوجہ کیا شی کہ ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تمہاری مخالفت میں شور مچ گیا۔تب وہ آواز جو میری زبان سے تم ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے احرار کے ذریعہ ماننے پر مجبور ہوئے۔مگر میں کہتا ہوں اب بھی تم جو کچھ سمجھتے ہو وہ بہت کم ہے۔اس سے بہت زیادہ خطرہ ہے جتنا تم سمجھتے ہو ، اس سے بہت زیادہ ضرورت ہے بیداری کی جتنی تم سمجھتے ہو ، اس سے بہت زیادہ ضرورت ہے قربانیوں کی جتنی تم سمجھتے ہو، اور اس سے زیادہ ضرورت ہے محبت ، ایثار اور اخلاص کی جتنی تم سمجھتے ہو۔اور یاد رکھو جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز اُٹھتی ہے تو اسے رڈ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ نے تمہارے اندر نبی مبعوث کیا۔نبی بھی کوئی معمولی نبی نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کا بروز ، آپ کا مظہر اور آپ کا خلیفہ۔بڑے آدمیوں کے خلیفے بھی بڑے ہوتے ہیں اور بڑے بادشاہوں کے نائب بھی بڑے ہوتے ہیں۔ہمارے بادشاہ ملک می بہت بڑے ہیں چنانچہ دیکھو! کتنے راجے اور نواب ہیں جو سر کا رکہلاتے ہیں مگر بادشاہ نہیں۔ان کے