خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 735 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 735

خطبات محمود ۷۳۵ سال ۱۹۳۵ء کہ تمہیں رسول کریم ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کی مانند بنائے۔پس اگر تم اپنے مقام پر کھڑے رہو گے اور نہیں ہلو گے تو جس طرح کند چھری کو سان پر چڑھایا جاتا اور اُسے تیز کر کے اُس کے زنگ کو دور کیا جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ تمہیں رگڑے گا اور اتنا رگڑے گا کہ تمہارا سارا زنگ دور ہو جائے گا تمہارے سپر د اس وقت ایک سبق کا یاد کرنا کیا گیا ہے۔جس طرح بچے جب اپنا سبق یاد نہیں کرتے تو استاد انہیں مارتا ہے اسی طرح تمہارے خدا نے بھی تمہارے لئے ایک کلاس کھول رکھی ہے۔اُس خدا نے جس طرح پہلے محمد علیہ کے زمانہ میں ایک جماعت کو سبق سکھایا اسی طرح اب وہ تمہیں بھی سبق سکھائے گا۔اگر تم اپنی مرضی سے سبق یاد کر لو گے تو تمہیں آرام رہے گا اور اگر عمدگی سے سبق یاد نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ کی قیچیاں تمہیں سیدھا کر کے چھوڑیں گی۔اور جب تک خدا تعالیٰ پھر وہی نور قائم نہ کر دے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اُس نے قائم کیا تھا ، جب تک صداقت پھر وہی قائم نہ ہو جائے جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں قائم تھی ، جب تک دیانت اُسی طرح قائم نہ ہو جائے جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں قائم تھی ، جب تک خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب اور احترام اسی طرح قائم نہ ہو جائے جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں قائم تھا ، جب تک قربانی اور ایثار کی وہی روح پیدا نہ ہو جائے جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں قائم تھی ، اور جب تک بنی نوع انسان کی شفقت اور محبت کا وہی مادہ تمہارے دلوں میں پیدا نہ ہو جائے ، جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تھا اُس وقت تک وہ دم نہیں لے گا نہیں لے گا اور نہیں لے گا۔اگر تم اپنی اندرونی تنظیم سے اپنے آپ کو درست نہ کرو گے تو خدا تعالیٰ بیرونی مخالفوں کو تمہاری درستی کے لئے کھڑا کر دے گا۔اور اگر بیرونی مخالفوں سے تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا تعالیٰ کی قمیاں تمہاری اصلاح کریں گی۔اور اگر نتیجیوں سے اصلاح نہ ہوئی تو خدا تعالیٰ تمہاری ڈنڈوں سے اصلاح کرے گا اور اگر ڈنڈوں سے اصلاح نہ ہوئی تو خدا تعالیٰ تلواروں سے تمہاری اصلاح کرے گا مگر وہ نہیں چھوڑیگا جب تک تمہارے دل کے زنگ دُور نہ ہو جائیں ، جب تک تمہارے اعمال صحابہ والے اعمال نہ ہو جائیں۔دیکھو! دنیوی حکومتوں میں جب جنگ چھڑتی ہے تو جو حکومتیں تمدن میں ادنی ہوتی ہیں ان کی نسبت ہمیشہ یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ ان کا پانچ ہزار سپاہی دشمن کے پانچ سو کے مقابلہ میں ہار گیا۔یہ کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ اس پانچ ہزار سپاہی کی تربیت صحیح رنگ میں نہیں کی گئی تھی مگر دوسرے پانچ سو