خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 733 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 733

خطبات محمود ۷۳۳ سال ۱۹۳۵ء۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر وہ کلکتہ تک جاتے تو انہیں ہر جگہ پھول پڑتے اور مجھے ہر جگہ پتھر۔اور میں نے جب یہ بات سنی تو یہی جواب دیا کہ انہوں نے جو کہا بالکل صحیح ہے رسول کریم ﷺ نے بھی جب دعوائی نبوت کیا تھا تو آپ پر پتھر پڑا کرتے تھے اور ابو جہل نے جب آپ کی مخالفت کی تھی تو اس پر ہر جگہ پھول ہی برسائے جاتے تھے۔پس مولوی صاحب نے خود اپنے منہ سے اقرار کر لیا کہ میں رسول کریم ﷺ کا متبع ہوں اور وہ اُس مقام پر کھڑے ہیں جس پر ابو جہل تھا۔میں محمد ﷺے کے شاگردوں اور غلاموں میں سے ہوں اور وہ ابو جہل کے شاگرد اور غلام ہیں۔آخر شاگرد نے آقا کی خصوصیات ہی لینی ہیں علیحدہ خصوصیات وہ کہاں سے لے۔وہ بوڑھے ہوئے تو مولوی ظفر علی صاحب نے سلسلہ کی مخالفت شروع کر دی اور ان کی بھی خوب آؤ بھگت ہوئی اور لوگوں میں انہوں نے اچھی عزت حاصل کی۔ان کا دور دورہ ختم ہوا تو احرار آگئے اور انہوں نے بھی اپنی عزت بڑھانے اور روپیہ کمانے کا یہی ذریعہ اختیار کیا کہ احمدیت کی مخالفت کی جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں ہماری مخالفت کی ایک زبر دست رو شروع ہے اور ان میں ہمارے خلاف اس قدر جوش اور غیظ و غضب بھرا ہوا ہے کہ جو بھی انہیں ہمارا مخالف ملتا ہے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مخالفت کی تو سب لوگ ان کے پیچھے ہو گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے مخالفت کی تو سب اُن کے پیچھے ہو گئے۔مولوی ظفر علی صاحب نے مخالفت شروع کی تو لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔اور جب احرار نے مخالفت کی تو ان کے پیچھے ہو لئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ہمارے خلاف اس قدر جذبات عناد موجود ہیں کہ انہیں ہمیشہ ایسی نالی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے وہ اپنا جوش نکال سکیں۔جب قلوب کی یہ کیفیت ہو ، جب بغض اس قدر بڑھ چکا ہو اور جب عداوت اتنی ترقی پر ہو تو اُس وقت بھی احمدی اگر اپنی قربانیوں میں سستی کریں تو ایسے احمدیوں سے زیادہ قابل ملامت اور کون ہو سکتا ہے۔دیکھو میں نے تم کو وقت پر دشمن کے حملہ سے ہوشیار کر دیا تھا اور کئی سال پہلے کہ دیا تھا کہ اب تغیرات زیادہ زور سے پیدا ہوں گے۔ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ مخالفین کی پہلی جد و جہد انفرادی ہو اکرتی تھی مگر اس کے بعد ان کی ہر جد و جہد پہلے سے زیادہ منظم ہوتی جارہی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی جد و جہد منظم نہیں تھی۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب آئے تو انہوں نے تنظیم کی۔