خطبات محمود (جلد 16) — Page 718
خطبات محمود ۷۱۸ سال ۱۹۳۵ء آج چندوں کے متعلق اعلان کر دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ پر اس تحریک کی تعمیل کو چھوڑتا ہوں کہ یہ کام اُسی کا ہے اور میں صرف اُس کا ایک حقیر خادم ہوں۔لفظ میرے ہیں مگر حکم اُس کا ہے وہ غیر محدود خزانوں والا ہے اُسے میرے دل کی تڑپ کا علم ہے اور اس کام کی اہمیت کو جو ہمارے سپرد ہے وہ ہم سے بہتر سمجھتا ہے۔پس میں اُسی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے سینوں کو کھولے اور ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تا وہ ایک مخلص اور باوفا عاشق کی طرح اُس کے دین کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں۔اور دیوانہ وار اپنی بڑی اور چھوٹی قربانی کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں۔اور اپنے ایمان کا ایک کھلا ثبوت دے کر دشمن کو شرمندہ کریں اور اس کی ہنسی کو رونے میں بدل دیں۔اور نہ صرف یہ قربانی کریں بلکہ دوسرے مطالبات جو جانی اور وقتی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دل کھول کر حصہ لیں۔اللَّهُمَّ يَارَبِّ۔آمین۔ہاں دوستوں کو یہ ضرور یادر ہے کہ اس چندہ کا اثر صدرانجمن کے چندوں پر ہرگز نہ پڑے کہ ایک ہاتھ کو بچانے کے لئے دوسرا ہاتھ کاٹ دینا بیوقوفی ہے۔اور چاہئے کہ تحریک امانت کو بھی دوست نظر انداز نہ کریں۔اور جو دوست اس وقت تک حصہ نہیں لے رہے اس میں حصہ لیں اور جو کم حصہ لیں رہے ہیں وہ اپنا حصہ اور بھی بڑھا دیں تا خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے شامل حال ہو اور اُس کا فضل ان پر بارش کی طرح نازل ہو۔اے میرے رب ! اپنے اس غریب اور عاجز بندے کی دعا کوسن اور ہر ایک جو میری آواز پر لبیک کہتا ہے تو اُس سے ایسا ہی معاملہ کر۔آمین۔يَا رَبَّ الْعَالَمِینَ۔الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۳۵ء) ل التوبة الانفال: البقرة: ۱۵۵