خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 706 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 706

خطبات محمود 2۔4 سال ۱۹۳۵ء بچے وہ دو۔اور ہم بچاتے ہی نہیں تو دیں کہاں سے۔واقعی لطیفہ تو اسے خوب سوجھا قرآن کریم میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ عفو میں سے خرچ کرو۔اور عفو کے معنے زائد مال کے بھی ہیں۔لیکن اس کے معنے بہترین مال کے بھی ہیں اگر بچے کی شرط کو پیش کر کے سب لوگ کھائیں ، اُڑائیں اور کہہ دیں کہ بچتا کچھ نہیں۔تو یہ اس امر کی علامت ہوگی کہ ان کے اندر ایمان نہیں خالی دعوؤں کو کیا کرنا ہے جب حقیقت کچھ نہ ہو۔پس اگر واقعی تمہارے اندر سچی خواہش ہے تو ایسا ماحول پیدا کرو جس میں قربانی ممکن ہو۔ورنہ خالی دعوی بے فائدہ شے ہے دعوی کرنا تو مشکل نہیں بلکہ منافق زیادہ دعوے کیا کرتے میں نے ایک دفعہ جلسہ میں تقریر کی اور اس میں کہا کہ ہماری جماعت میں مال تو ہے مگر دیانت دار تا جر نہیں ملتے۔شروع شروع میں میرے پاس بہت سے ایسے لوگ آتے تھے کہ ہمارے پاس روپیہ ہے وہ کسی کام میں لگوادیں۔اب بھی آتے ہیں مگر اب چونکہ لوگوں کو پتہ لگ گیا ہے کہ میں ایسے روپیہ کورڈ کر دیتا ہوں اور اس کی ذمہ داری نہیں لیتا ، اس لئے کم آتے ہیں۔تو میں نے بیان کیا کہ میرے پاس لوگ روپیہ لاتے ہیں اگر دیانت دار تا جر مل سکیں تو ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور روپیہ والوں کو بھی۔اس تقریر کے بعد پانچ سات رفعے میرے پاس آئے کہ آپ کا سوال تو یہی تھا نا کہ دیانتدار آدمی نہیں ملتے۔سو وہ وقت دور ہو گئی اور ہم اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں ، آپ ہمیں روپیہ دلوائیں ہم دیانت داری سے کام کرنے والے ہیں۔یہ لوگ سب کے سب ایسے تھے جن کے پاس پھوٹی کوڑی کا امانت رکھنا بھی میں جائز نہ سمجھتا تھا اور بعد میں بعض ان میں سے خیانت میں پکڑے بھی گئے تو صرف منہ کا دعویٰ کچھ نہیں بلکہ عمل سے اس کی تائید ہونی چاہئے۔جو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ جو قربانی کی خواہش رکھتا ہے وہ اس کے مطابق ماحول بھی پیدا کرے۔ایک شخص آتا اور کہتا ہے کہ میں خدا کے لئے اپنا سارا وقت قربان کرتا ہوں مگر ساتھ ہی یہ کہ دیتا ہے کہ میں چھ گھنٹہ کی ڈیوٹی دیتا ہوں۔آٹھ گھنٹہ سوتا ہوں ، دو گھنٹے نمازوں میں صرف کرتا ہوں ، دو گھنٹے پاخانہ پیشاب میں گزر جاتے ہیں، دو گھنٹے سیر ، دو گھنٹے احباب سے بات چیت میں گزارتا ہوں اور باقی دو گھنٹے گھر میں زائد کام کرتا ہوں۔تو اس طرح ۲۴ گھنٹہ کا حساب دے دینے کے بعد میں اُس کے لئے ۲۵ گھنٹے کس طرح بنا سکتا ہوں اور اس سے کیا کام لے سکتا ہوں۔اُس کے اس دعویٰ کا یہ مطلب ہے کہ یا تو وہ خود بیوقوف ہے یا مجھے