خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 682

خطبات محمود ۶۸۲ سال ۱۹۳۵ء چھپی۔اور اس کے چودہ سال بعد آپ نے دعوی مجددیت کیا اور اس کے کچھ عرصہ بعد مسیحیت کا دعویٰ کیا۔گویا چونتیس سال کے بعد کے واقعہ کو یہ شخص چند ماہ کے اندر کا واقعہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر لطیفہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں قریباً دو سال رہے ہیں اور وہاں کے لوگ جو رات دن آپ کی مجلس میں رہے ، ان سے آپ نے کبھی ایسی بات نہ کہی۔کہی تو ایک گھنٹہ کی ملاقات میں سید چنن شاہ صاحب سے کہی۔سیالکوٹ کے لوگوں پر آپ کی زندگی کا جو اثر تھا وہ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ سید میر حسن صاحب جو ایک بہت مشہور شخص گزرے ہیں ڈاکٹر سرا قبال بھی ان کے شاگردوں میں سے ہیں، سیالکوٹ اور پنجاب کا علمی طبقہ ان کی عظمت ،صاف گوئی اور سچائی کا قائل ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قیام سیالکوٹ کے ہر وقت کے ساتھی تھے وہ نیچری تھے اور سرسید کے متبع تھے اور آخر تک احمدیت کے مخالف رہے ہیں۔مگر جب بھی کسی نے آپ کی قبل از بعثت زندگی پر اعتراض کئے ، انہوں نے ہمیشہ اس کی تردید کی اور عَلَی الْإِعْلَانُ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بزرگی اور نیکی اور اسلام سے محبت کا ذکر کرتے رہے۔پس کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سیالکوٹ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لمبے عرصہ تک رہے وہاں کے لوگ تو آپ کی زندگی میں کوئی عیب نہ نکال سکے بلکہ آپ کی بزرگی اور ولایت کے قائل رہے لیکن یہ سید محمد مظہر کہتا ہے کہ قادیان کی واپسی کے وقت سید چن شاہ صاحب سے آپ راستہ میں یہ بات کہتے آئے کہ انسان ذرا ڈھیٹھ بن جائے تو نبی بن سکتا ہے۔در اصل یہ الفاظ کہہ کر اس شخص نے اپنی گندی فطرت کا اظہار کیا ہے اور اُس ڈھیٹھ پن کا مظاہرہ کیا ہے جو اس کے اندر موجود ہے۔غرض احرار کی طرف سے گالیوں میں کمی نہیں آئی بلکہ ان میں زیادتی ہو رہی ہے۔گالیاں دی جاتی ہیں اور اتنی ناپاک اور گندی گالیاں دی جاتی ہیں کہ کوئی انسان انہیں سننے کی تاب نہیں رکھتا۔اس کے مقابلہ میں حکومت خاموش ہے اور مسلسل خاموش ہے حالانکہ اگر یہی گالیاں حضرت مسیح ناصری کو دی جائیں ، اگر یہی گالیاں حضرت کرشن کو دی جائیں اور اگر یہ گالیاں سکھوں کے گروؤں کو دی جائیں تو گورنمنٹ کے حلقہ ہائے اعلیٰ تھرا جائیں اور ملک میں فساد اور خونریزی کی ایسی رو پیدا ہو جائے جس کا سنبھالنا حکومت کے بس میں نہ ہو مگر کیا چیز ہے جو حکومت کو خاموش رکھے ہوئے ہے ، کس چیز نے اس کی قلموں کو روکا ہوا ہے ، اور کس چیز نے اس کے ہاتھوں کو حرکت کرنے سے روکا ہوا ہے۔صرف اس بات نے کہ احمدی امن