خطبات محمود (جلد 16) — Page 673
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کو سزا دے جنہوں نے بلا وجہ جماعت احمدیہ کو دکھ دیا اور اس کی تحقیر کی لیکن اگر وہ اس بات کے لئے تیار نہیں تو جماعت احمدیہ کا کوئی فرد اُس وقت تک جب تک کہ ایمان کا ایک ذرہ اُس کے دل میں موجود ہے ، ذلت کے ساتھ حکومت کے آگے اپنی گردن نہیں جھکا سکتا اور نہیں جھکائے گا۔اس کے بعد میں احرار کا سوال لیتا ہوں احرار نے جو کچھ کیا اس کے خلاف ہمیں کیا غصہ تھا ؟ یہی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے اور سلسلہ کی ہتک کرتے تھے ورنہ احرار دوسرے مسلمانوں کی طرح ہی ہیں جن سے ہم ملتے جلتے رہتے ہیں۔اور ان سے ہماری کیا عداوت ہو سکتی تھی آخر یہی احرار ہیں جن میں سے ایک لیڈر نے سر ملکام کے زمانے میں مجھے کہا کہ ہماری سفارش کر دیں۔کیونکہ وہ مولوی داؤ د غزنوی اور دوسرے ممبروں کو پکڑنا چاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے سر ملکام سے ذکر کر دیا اور نہ معلوم میرے کہنے سے یا حکومت کی اپنی مصلحتوں سے یہ لوگ پکڑے نہ گئے۔تو ہم ہمیشہ ہر ایک کے کام آتے رہے ہیں اور کبھی بھی ہم نے مسلمانوں سے الجھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی انہوں نے ہمارے راستہ میں اُلجھاؤ ڈالا تو ہم نے اُسے سلجھانے کی کوشش کی لیکن جب ایک قوم اپنے صحیح راستہ کو ترک کر دیتی ہے اور بلا وجہ اور بغیر کسی قصور کے دوسرے فریق پر حملہ کر دیتی ہے تو پھر مؤمن بے غیرت نہیں ہوتا بلکہ انتہاء درجہ کا غیور اور بہادر ہوتا ہے۔ہمیں انہوں نے آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی متفقہ مخالفت سے ڈرایا۔مگر میں کہتا ہوں کہ تم آٹھ کروڑ نہ سہی اسی کروڑ سہی مگر تم سارے مل کر بھی ایک مؤمن کی زبان کو بند کرنے اور اس کے کام کو روکنے کی اپنے اندر طاقت نہیں رکھتے۔اب تو ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ ہیں جب سلسلہ کے ابتدائی ایام تھے ، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات مخالفین کے مقابلہ میں اکیلی تھی اُس وقت کب ان کے شورش نے ہمیں دبا لیا ، کب ان کی مخالفت نے ہمیں ڈرا لیا اور کب انکی دھمکیوں نے ہمارے ارادوں کو پست کر دیا۔فساد پر فساد ہوئے اور شورشوں پر شورشیں ہوئیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کتاب پر کتاب اور اشتہار پر اشتہار لکھتے گئے اور آپ مقابلہ پر مقابلہ کرتے گئے یہاں تک کہ دشمن ذلیل اور حاسد شرمندہ ہو گئے اور کامیابی و کامرانی کا جھنڈا آپ کے ہاتھوں لہرایا۔پس مؤمن بزدل نہیں ہوتا اور نہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم بزدل ہیں۔ہمیں تعداد نہیں ڈرا سکتی ، ہمیں گالیاں نہیں ڈرا سکتیں ، ہمیں جبر، تشدد اور قتل و غارت کی دھمکیاں نہیں ڈرا سکتیں۔ہمیں اگر کوئی چیز قابو کر سکتی ہے تو وہ صرف اخلاق