خطبات محمود (جلد 16) — Page 536
خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۵ء ہے ایسا زہر جس کے کھانے والا کبھی بچ نہیں سکتا اور جس کی زندگی پر موت کا آنا یقینی ہوتا ہے۔ایک انسان اگر روزہ میں کوئی کوتاہی کرے تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔مگر اس گناہ کی سزا بالکل ممکن ہے کہ اسے اس جہان میں نہ ملے بلکہ اگلے جہان میں ملے۔اسی طرح اگر کوئی حج کے معاملہ میں بے احتیاطی کر بیٹھے اور اپنے اجتہاد کے دروازہ کو وسیع کر دے تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔مگر بالکل ممکن ہے کہ اس گناہ کی سزا اسے اس جہان میں نہ ملے بلکہ اگلے جہان میں ملے۔مگر یہ ہو نہیں سکتا کہ جو لوگ اس تعلیم کو توڑتے ہوں جس پر سارے انبیاء زور دیتے چلے آئے اور جو تمام مذاہب میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے وہ اس جہان میں اس کی سزا سے بچ جائیں بلکہ اُدھر وہ ظلم کرتے ہیں ادھر انہیں ظلم کی سزاملنی شروع ہو جاتی ہے۔جس طرح زہر کھانے والا زہر کھاتے ہی اپنی طبیعت میں ایک تغیر پاتا ہے اسی طرح تو حید کا منکر فوراً اپنے اندر ایسا تغیر پاتا ہے جو اُس کی اعلی طاقتوں کو برباد کر دیتا ہے۔اسی طرح جھوٹ بولنے والا، ظلم کرنے والا ، اتہام لگانے اور بد دیانتی کرنے والا اپنے اندر ایک ایسا تغیر پاتا ہے جو اُس کی مفید طاقتوں کو توڑ دیتا ہے۔دوسروں پر ظلم کرنے اور جھوٹ بولنے والے کے متعلق خدا تعالیٰ یہ انتظار نہیں کرتا کہ اسے اس جہان میں مہلت دی جائے اور اگلے جہان میں سزا دی جائے بلکہ وہ اسی جہان میں اُسے پکڑتا اور اس دنیا میں ذلیل اور رسوا کر دیتا ہے کیونکہ یہ اخلاق کی بنیادیں ہیں اور ایسے امور میں بے احتیاطی کا ارتکاب کوئی معمولی بات نہیں۔پھر کس قدر افسوس کی بات ہے اُس قوم پر جو اپنی زندگی کا مدار ہی ان باتوں پر رکھتی ہے جو سچائی کا ہتھیا را اختیار کرنے کی بجائے جھوٹ اور افتراء سے کام لینے کی عادی ہے۔وہ جب جھوٹ بولتی ہے تو جھوٹ کے ذریعہ خود اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ میں مر چکی ہوں اور اپنے عمل سے اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ سچائی اس کے پاس نہیں۔ایک شخص کسی پر جھوٹا مقدمہ دائر کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے مجھے مارا حالانکہ اس نے مارا نہیں ہوتا۔یہ اس کی روحانی موت کا ثبوت ہوتا ہے کیونکہ اگر واقعی اس نے اسے ستایا ہوتا یا کوئی تکلیف دی ہوتی تو اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔وہ وہی بات پیش کرتا جو وقوع میں آئی تھی کذب بیانی سے کام نہ لیتا۔مگر اس کا جھوٹ بولنا بتاتا ہے کہ اصل واقعہ کوئی نہ تھا۔انبیاء علیھم السلام کے زمانہ میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان کے دشمن ہمیشہ جھوٹ بولتے اور افتر ا سے کام لے کر وہ کچھ کہتے ہیں جو انبیاء نے نہیں کہا ہوتا اور اس طرح لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں۔