خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 49

خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۵ء اس لئے جماعت کو اظہارِ خیال کا موقع ملنا چاہئے اس وجہ سے میں آج اس کا علاج بتانے لگا ہوں۔میں نے بھی دیکھا ہے جب ایک شخص کی طرف سے حکومت کو ایسی غلطیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جو ملک کے امن کو برباد کرنے والی ہوں تو حکومت یہی سمجھتی ہے کہ یہ ایک آدمی کہ رہا ہے خواہ وہ کتنا با اثر ہومگر ہے تو ایک ہی لیکن اگر وہی بات جماعت کی طرف سے پیش کی جائے تو چونکہ اس حکومت کی بنیاد ڈیموکریسی (DEMOCRACY) پر بتائی جاتی ہے اور برطانوی حکومت اس بات پر فخر کرتی ہے کہ وہ اس آواز کے ماتحت چلتی ہے جو ملک کی طرف سے پیدا ہو ( اس میں اور دوسری حکومتوں میں یہ فرق ہے کہ دوسری حکومتوں میں رعایا حکومت کے تابع ہوتی ہے مگر ہماری حکومت رعایا کے تابع ہے ) پس یہ حکومت اس وقت توجہ کرتی ہے جب ملک کی طرف سے کوئی مطالبہ پیش ہو۔اگر چہ یہاں ڈیموکریسی پوری طرح قائم نہیں اور انگلستان میں جو اصول ہیں وہ یہاں نہیں ہیں مگر ابتداء ہو چکی ہے اور مانٹیگو چیمسفورڈ ریفارمز (MontagueChelmsfordReforms) کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ ہندوستان کی حکومت نیابتی اصول پر قائم کی جائے اور اب جو نئی سکیم تیار ہوئی ہے اس میں کئی باتیں پہلے سے بھی اچھی ہیں مگر بعض بری بھی ہیں مگر اچھی بہت سی ہیں۔پس قدرتی طور پر حکومت ہر معاملہ میں یہ دیکھتی ہے کہ ملک کی رائے کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ حکام جو ہمارے نظام اور خلیفہ کے ساتھ جماعت کی فدائیت کو نہیں سمجھتے ان پر جماعت کی رائے ہی اثر پیدا کر سکتی ہے۔پس ان دونوں امور کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ قانون کی حد میں رہتے ہوئے انہیں حکومت کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار کی اجازت ہونی چاہئے وہ اپنی الگ انجمنیں بنائیں جن میں سرکاری ملازم نہ ہوں جو جماعتیں ایسا کریں گی انہیں میں اجازت دے دوں گا کہ وہ سلسلہ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسیات میں دخل دے سکتی ہیں۔یہ الفاظ میں خوشی سے نہیں کہہ رہا بلکہ انہیں کہتے ہوئے ایک بوجھ محسوس کرتا ہوں کیونکہ پورے اکیس سال ہو گئے جب سے کہ میں نے 'الفضل' جاری کیا میں برا بر روز و شب اسی کوشش میں رہا ہوں کہ جماعت کو سیاسیات سے الگ رکھوں اور اس اصل کے لئے میں نے اپنوں سے بھی لڑائیاں کیں۔حکومت کا کوئی وائسرائے یا گورنر یا کوئی اور ممبر حکومت یہ پیش نہیں کر سکتا کہ اسے اس وجہ سے مجھ سے زیادہ گالیاں ملی ہوں کہ وہ لوگوں کو سیاست سے روکتا ہے۔کسی ایک افسر کا نام ہی بتایا جائے کہ اسے اس وجہ سے مجھ