خطبات محمود (جلد 16) — Page 520
خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۵ء ہیں لیکن جب کبھی طبعی تغیر ایسے مقام پر جا پہنچتا ہے کہ اس سے شریعت مخفی ہو جاتی یا مٹ جاتی ہے یا روحانیت خطرہ میں پڑ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ دنیا کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔یوں تو ہمیشہ ہی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر وہ لوگوں کو ڈھیل دے دیتا ہے مگر جب بگاڑ اور فساد بہت بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ اپنا ماً مور بھیجتا ہے اور اس کے ذریعہ دنیا میں شرعی تغیرات پیدا کرتا ہے اور شرعی تغیرات کے نتائج ان تغیرات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو اسباب کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً پانی کے گھڑے میں اگر دو تین سیر مصری ڈال دی جائے تو شربت بن جائے گا لیکن ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ ایک طبعی تغیر ہے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ مصری کی ایک خاص مقدار کو اتنے پانی میں ملا دو تو وہ شربت میں تبدیل ہو جائے گا لیکن اگر کوئی پانی کے گھڑے میں ایک چٹکی مصری کی ڈال دے اور وہ شربت بن جائے تو ہر شخص تسلیم کرے گا کہ یہ طبعی نتیجہ نہیں ہے یہ کوئی غیر معمولی نقد بر ظا ہر ہوئی ہے۔انبیاء میں اس کی موٹی مثال رسول کریم ﷺ کی ہے۔آپ نے بے شک لشکر استعمال کئے ، لڑائیاں ہوئیں اور آپ نے فتوحات حاصل کیں لیکن دنیا میں اور قوموں نے بھی لشکر استعمال کئے ہیں ، اور وں نے بھی فتوحات حاصل کیں ہیں لیکن ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتوحات کو معجزے اور اللہ تعالیٰ کے نشانات قرار دیتے ہیں اور دوسروں کی فتوحات کو نہیں کیونکہ ان کی فتوحات عام طبعی قانون کے نتیجہ میں تھیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ان کی ایسی حالت کبھی نہیں گزری کہ مخالفت تو ہو مگر طاقت موجود نہ ہو۔وہ سب کے سب ایسے ہی گزرے ہیں کہ ان کے ایک حد تک بڑھ جانے کے وقت تک کوئی شخص ان کے مقابل پر نہیں آیا یا جن طاقتوں نے ابتداء میں ان کا مقابلہ کیا وہ معمولی طاقتیں تھیں مثلاً ایک کے مقابلہ میں پانچ ہو گئے مقابلہ ہوا ، اس نے دو مار دیئے اور تین اس کے ساتھ شامل ہو گئے ، پھر ان چار کا مقابلہ پندرہ سے ہوا انہوں نے ہمت کی ، چار پانچ مار دیئے اور دس بارہ ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس طرح آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے وہ بادشاہ بن گئے جس طرح افغانستان کا نادرشاہ تھا۔پہلے وہ معمولی گڈریا تھا۔آہستہ آہستہ ایسے سامان ہو گئے کہ وہ ڈاکو بن گیا اور پھر ایک علاقہ پر قابض ہو گیا اور اس طرح بڑھتے بڑھتے افغانستان کا بادشاہ ہو گیا۔دوسری مثال نپولین کی ہے اُس وقت اس کی قوم کو ایک ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو اُسے لڑائے۔قوم بادشاہ سے لڑ رہی تھی اور تمام جرنیلوں کے متعلق اسے شک تھا کہ وہ بڑے آدمی ہیں،