خطبات محمود (جلد 16) — Page 476
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء جماعت ہر وقت تیار رہے اور جب اس کے سپرد کوئی کام کیا جائے تو وہ اسے تندہی سے کرے۔باقی طبیعت میں ڈر جو ہوتا ہے اس سے کام نہیں چلتا۔یہ خیال کہ شاید ہمارے اس کام سے خلیفہ اسیح ناراض ہو جائیں ، شاید اس کام سے گورنمنٹ ناراض ہو جائے ،شاید فلاں افسر ناراض ہو جائے ، بالکل فضول خیالات ہیں اور ان خیالات سے کام میں کامیابی نہیں ہوا کرتی۔جب کوئی خفا ہوگا دیکھا جائے گا تم پہلے ہی ڈر کر اپنے کاموں کو کیوں خراب کرتے ہو۔ہاں سوچ کر کام کرو اور غور وفکر کرنے کے بعد بھی اگر کوئی تم سے غلطی ہو جاتی ہے تو خوشی سے سزا برداشت کر لو۔جو شخص سزا سے ڈرتا ہے وہ کبھی کام نہیں کر سکتا۔اگر تم ڈرتے رہو کہ اس کام سے خلیفہ اسیج ناراض ہو جائیں گے، فلاں کام سے فلاں افسر ناراض ہو جائے گا، تو تم کبھی کام نہیں کر سکو گے۔اگر تم اپنی طرف سے سوچ سمجھ کر ایک کام کرتے ہو اور میں کسی وجہ سے ناراض ہوتا ہوں تو میری ناراضگی بھی تمہارے لئے مفید ہو گی اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکو گے۔اور اگر اپنی کسی بُری حرکت سے میرے ناراض ہونے کا تمہیں قومی احتمال ہے تو ایسی حرکت تم کرو گے ہی کیوں۔ایک مجسٹریٹ کے پاس ایک دفعہ ایک احمدی کسی گواہی کے لئے گیا۔گواہی کے بعد اس نے مذہبی بات چیت شروع کر دی اور کہنے لگا میں کچھ باتیں پوچھنی چاہتا ہوں کیا آپ ناراض تو نہیں ہوں گے۔وہ احمدی کہنے لگا اگر آپ ناراضگی کی بات نہیں کریں گے تو کیا میں پاگل ہوں جو ناراض ہو جاؤں اور اگر وہ بات جو آپ کہنا چاہتے ہیں ناراضگی والی ہے تو آپ کریں ہی کیوں۔پس اگر تمہارے نزدیک کوئی مجھے ناراض کرنے والی بات ہے تو وہ کیوں کرتے ہو۔اور اگر تم اپنی طرف سے ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کوئی کام کرو مگر میرے نزدیک وہ غلط ہو تب بھی تمہیں اپنی نیک نیت کا ثواب مل جائے گا اور میری ناراضگی تمہاری اصلاح کا موجب ہوگی۔یاد رکھو جو شخص اس لئے کوئی قربانی کرتا ہے کہ وہ اسے سلسلہ کے لئے مفید سمجھتا ہے اس کا اسے ثواب ملے گا خواہ ہم ناراض ہو جائیں کیونکہ وہ اس لئے ناراضگی سے نہیں ڈرتا کہ وہ میری ناراضگی کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا بلکہ اس لئے نہیں ڈرتا کہ وہ سمجھتا ہے کہ جب میرے سپر د ایک کام کیا گیا ہے تو میرا فرض ہے کہ مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر دلیری سے کام کروں اور نتائج کی پروا نہ کروں۔پس اگر باوجود تمام تمہاری احتیاطوں کے کسی وجہ سے میری ناراضگی کے تم مورد بنتے ہو تو یہ ناراضگی تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہوگی۔غرض آزاد ہو کر کام کرو۔میری طرف