خطبات محمود (جلد 16) — Page 471
خطبات محمود ۴۷۱ سال ۱۹۳۵ء ان کی ایجنٹ ہے۔جب تمام لوگ اپنے دلوں میں یہ خیال رکھتے ہوں تو تعلیمیافتہ طبقہ اگر ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہ کرتا تو اس میں وہ ایک حد تک معذور تھا لیکن اب ان واقعات نے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں اور انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم انگریزوں کے ایجنٹ نہیں۔ابھی تھوڑے دنوں کی بات ہے ہندوستان کی ایک سیاسی انجمن کے ایک ذمہ دار شخص نے ہمارے ایک دوست سے کہا کہ ہماری آنکھیں تو اب کھلی ہیں۔ہم ہمیشہ سمجھتے تھے کہ آپ کی جماعت انگریزوں کی ایجنٹ ہے مگر اب پتہ لگا کہ یہ بات غلط ہے تو اس تبدیلی سے ہمیں کتنا بڑا فائدہ ہو ا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ایک رستہ کو بند کرتا ہے تو دوسرا رستہ کھول دیتا ہے۔جس شخص کی ایک آنکھ بیٹھ جائے اس کی دوسری آنکھ بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جو ایک کان سے بہرہ ہو جائے اس کا دوسرا کان بہت جلدی باتیں سن لیتا ہے ، اسی طرح ہمارے ساتھ ہوا۔جب یہ خیال دُور ہوا کہ ہم انگریزی گورنمنٹ کی حمایت کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دوسری طرف کی حمایت پیدا کر دی۔بہر حال دنیا کا تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے بہت زیادہ قریب ہو گیا ہے اور اب وہ ہماری باتیں زیادہ تو جہ اور غور سے سن سکے گا۔غرض اس الزام کے دور ہو جانے کی وجہ سے غیر ممالک میں ہماری تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ آسان ہو جائیگی۔عرب میں ، مصر میں ، چین میں ، جاپان میں بلکہ خود ہندوستان میں بھی ہماری تبلیغ آسان ہو جائے گی کیونکہ ہندوستان میں بھی زیادہ تعلیمیافتہ طبقہ ایسا ہے جو کسی ایسی جماعت سے تعلق رکھنے کے لئے تیار نہیں جس کے متعلق اسے یہ احساس ہو کہ وہ گورنمنٹ کی ایجنٹ ہے۔پھر ہمارا مذ ہب چونکہ یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے اور اس کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے مگر اس میں انگریزوں کی شرط نہیں۔اگر کوئی ڈچ گورنمنٹ کے ماتحت رہتا ہو تو اس کا فرض ہے کہ ڈچ گورنمنٹ کی اطاعت کرے اور اگر کوئی چین، جاپان یا افغانستان میں رہتا ہو تو اس کا فرض ہے چینی ، جاپانی یا افغانی حکومت کی اطاعت کرے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہا احمدیوں نے تو انگریزوں سے اپنے تعلقات بگاڑنے نہیں ، آؤ اس الزام کے دور کرنے کے لئے کہ جماعت احمد یہ حکومتِ انگریزی کی ایجنٹ ہے حکومت انگریزی کے بعض افسروں کے دل میں تحریک پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ آپ احمدیوں سے بگاڑ لیں جیسے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوا۔آپ کی بھی یہی تعلیم تھی کہ جس کے ماتحت رہو اُس کی اطاعت کرو۔تیرہ سال آپ مکہ معظمہ میں رہے اور آپ نے صبر و برداشت