خطبات محمود (جلد 16) — Page 459
خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۵ء چھپانے کی ضرورت نہیں۔جب تک انسان کسی کو اپنا دوست سمجھتا ہے اُس وقت تک اگر کوئی راز اس کا معلوم ہو تو وہ اس کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ چھپاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا دوست ہے میں اس کا راز ظاہر کر کے کیوں اس سے اپنے تعلقات بگاڑوں لیکن گورنمنٹ کا موجودہ رویہ بتا رہا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دوستوں میں سے نہیں بلکہ مخالفوں میں سے سمجھتی ہے۔ایسے موقع پر میں حکومت کو متواتر چیلنج دے چکا ہوں اور اب پھر چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ثابت کرے ہم نے کبھی اس سے کوئی ایسا فائدہ اُٹھایا ہو جو رعایا کے عام حقوق سے بالا ہو۔اگر ہم نے اس کی خدمات کر کے کوئی دُنیوی فائدہ حاصل کیا ہو تو اب اس کا فرض ہے کہ وہ اسے دنیا کے سامنے پیش کر کے ہمیں لوگوں میں شرمندہ کرے ہم نے حکومت کی حمایت میں جانیں دیں، ہم نے حکومت کی تائید میں مال خرچ کیا اور ہم نے حکومت کی تائید میں اوقات صرف کئے ان تمام قربانیوں کے بدلے میں حکومت بتائے کہ اس نے ہمیں کبھی کوئی فائدہ پہنچایا ہو۔آج تک حکومت کا کوئی ایک افسر بھی خواہ وہ سابق افسر ہو یا موجودہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ہم نے حکومت سے کوئی خاص فائدہ حاصل کیا۔نہ بحیثیت قوم جو خدمات ہم نے کیں ان کا بحیثیت قوم کوئی بدلہ لیا اور نہ اپنے خاندان کی خدمت کا حکومت سے کوئی معاوضہ لیا بلکہ اپنے خاندان کے لحاظ سے تو میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اپنی خدمات کا بحیثیت فرد بھی ہم نے اس سے بدلہ نہیں لیا۔دوسرے احمدی افراد میں سے اگر کسی نے حکومت کی خدمت کر کے بحیثیت فرد کوئی معاوضہ لیا ہو تو وہ اور بات ہے لیکن بحیثیت قوم ہم نے جو خدمت حکومت کی کی اس کے بدلہ میں بحیثیت قوم ہم نے کبھی اس سے بدلہ نہیں لیا اور اپنے خاندان کے متعلق تو اس شرط کو بھی میں اُڑا دیتا ہوں، گورنمنٹ بتائے کہ ہم نے کبھی ذاتی طور پر اس سے کوئی فائدہ اُٹھایا ہے ؟ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں ، لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ سے نفعوں کی امید رکھتے ہیں ، لوگ ہمیں کہتے رہے کہ گورنمنٹ ان کے خزانے آپ بھرتی ہے ، مگر گورنمنٹ تو جانتی ہے کہ ہم نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اور اگر اُٹھایا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ پیش کرے۔ساری عمر میں صرف ایک کام حکومت نے ایسا ہمارے بعض آدمیوں کے سپر د کیا تھا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ ہم اس میں دو ہزار روپیہ تک خرچ کر سکتے ہیں لیکن جب وہ معاملہ میرے پاس آیا تو میں نے روپیہ کے معاملہ کو نظر انداز کرا دیا۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر یہ دو ہزار روپیہ لے لیا گیا تو گو یہ گورنمنٹ کا ہی کام ہے مگر بعد میں جب کبھی