خطبات محمود (جلد 16) — Page 392
خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۵ء پنجابی میں’ ونگلی کہتے ہیں۔اس زلزلہ کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ نے نمونہ کے طور پر بتایا ہے کہ جب میرا اذن آ جائے تو دنیا کا کوئی فرد میرے ارادوں میں حائل نہیں ہوسکتا۔پس خدا کے آگے جھکو اور اس کے حضور عاجزی وزاری سے اپیل کرو کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی سنے والا نہیں۔آج ہی ایک اخبار مجھے دیا گیا ہے جس میں اس بات پر ہنسی اڑائی گئی ہے کہ ہم ان کے لئے بد دعائیں کرتے ہیں۔پھر منافقوں کی طرف منسوب کر کے بعض باتیں اس میں لکھی گئی ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ منافقوں کی بیان کردہ نہیں بلکہ کسی اور نے ان کے پاس بیان کی ہیں مثلاً لکھا ہے کہ مرزا اکرم بیگ صاحب کی زمین کو میں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں خریدا، یہ روپیہ میرے پاس کہاں سے آ گیا ؟ اسی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کا لکھنے والا کوئی ناواقف ہند و یا کوئی اور شخص ہے کیونکہ حالات کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ زمین میں نے نہیں لی بلکہ اس کا اکثر حصہ صدر انجمن احمد یہ اور دوسرے احمدیوں نے خریدا ہے مثلاً چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم ، میاں غلام محی الدین صاحب امرتسری ، بابوسراج الدین، چوہدری حاکم علی صاحب ، چوہدری غلام حسین صاحب سفید پوش وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کی اس مضمون میں اور بھی کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی منافق کا مضمون نہیں بلکہ باہر کا کوئی آدمی ہے جو یہ مضمون لکھ رہا ہے مگر اپنی طرف سے یہ ڈھکوسلا بھی مرعوب کرنے کے لئے بیان کرتا چلا جاتا ہے کہ یہ قادیان کے منافق کہتے ہیں گویا اس طرح یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قادیان میں ایسی ایک جماعت ہے حالانکہ باتیں خود لکھ کر ان کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔تو ہمارے مخالفوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ مضمون لکھنے والا کوئی ہوتا ہے اور منسوب وہ کسی اور کی طرف کر دیتے ہیں۔پھر وہ اس بات پر ہنسی اڑاتے ہیں کہ ان کے لئے بددعائیں کی جاتی ہیں اور لکھتے ہیں کہ ہم بھلا ان بد دعاؤں سے ڈرنے والے ہیں مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔جس وقت رسول کریم ﷺ مکہ میں کفار کے لئے بددعا ئیں کیا کرتے تھے اُس وقت مکہ والے بھی آپ کی بددعاؤں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔در حقیقت جس قوم کو اللہ تعالیٰ تباہ کرنا چاہتا ہے اُس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ بددعا سے نہیں ڈرتی اس کے اندر کبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کہتی ہے کون ہمیں تباہ کر سکتا ہے؟ تب خدا اپنی قدرت کا ایک زبر دست ہاتھ ظاہر کرتا ہے اور آسمان سے اپنی قہری تجلیات نازل کر کے اور غضب کی آگ بھڑکا کر انہیں کہتا ہے اے نادانو ! تم جو اپنی