خطبات محمود (جلد 16) — Page 390
خطبات محمود ۳۹۰ سال ۱۹۳۵ء ساتھ میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ موجودہ مخالفت کو مدنظر رکھتے ہوئے جس رنگ میں چاہیں اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ ضرور بددعائیں کریں مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ جس جس شخص کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اب رعایا اور حکام کی طرف سے اس قدر شدت کے ساتھ مخالفت ہو رہی ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹانے اور اس کے حضور گریہ وزاری کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں تو وہ خدا تعالیٰ سے سلسلہ کیلئے مدد اور اس کے دشمنوں کی ہلاکت و بربادی کیلئے دعا کرے اور اگر میری وجہ سے وہ اب تک اس رنگ میں بددعا کرنے سے رُکے ہوئے تھے تو میں انہیں اب بتا تا ہوں کہ وہ اس رنگ میں بددعا کر سکتے ہیں اور میری طرف سے انہیں اجازت ہے۔نادان دشمن ان باتوں پر ہنستا ہے اور وہ کہتا ہے اب ہمارے لئے بددعائیں کی جا رہی ہیں حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں ہمیشہ بددعا کے پہلو کو نظر انداز کرتا رہا ہوں اور پھر نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ خدا ہمارا غلام نہیں کہ ادھر بددعا ہمارے منہ سے نکلے اور اُدھر وہ ہمارے دشمن کا گلا گھونٹ دے۔جس طرح دعا ئیں ایک عرصہ کے بعد قبول ہوتی ہیں اسی طرح بد دعا ئیں بھی قبولیت کے لئے لمبا عرصہ چاہتی ہیں ہاں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ادھر بددعا منہ سے نکلتی ہے اور اُدھر قبول ہو جاتی ہے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے اور وہ اپنے مصالح کو آپ سمجھتا ہے ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ دعا ہو یا بد دعا یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔جو انسان خلوص دل اور سچائی کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اس کی دعا بھی سنی جاتی ہے اور بددعا بھی۔خواہ اس کے مقابل میں معمولی انسان ہو یا درمیانی درجہ کے یا بڑے بڑے بادشاہ اور شہنشاہ سب اس کی بددعا سے مٹا دیئے جاتے ہیں۔میری اپنی یہ رائے ہے کہ ہم نے اس زمانہ میں دو سال تک متعلقہ حکام کے دروازے کھٹکھٹا کر دیکھے ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ عدل اور انصاف کا ہاتھ بلند کریں اور ہمارے خلاف جو شرارتیں ہو رہی ہیں ان کو دور کریں اور رعایا کو بھی تو جہ دلائی ہے کہ وہ شرافت اور تہذیب سے کام لے مگر افسوس کہ نہ حکام ہمارا علاج کر سکے اور بالکل ممکن ہے کہ ان میں سے بعض کرنا ہی نہ چاہتے ہوں اور نہ ہمارے مخالف لوگوں نے بھی اپنا رویہ بدلا۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنے قہری نشان سے رعایا اور حکام کو توجہ دلائی کہ خدا تعالیٰ کی جماعتوں پر ہاتھ اُٹھانے کا نتیجہ اچھا نہیں مگر ان تمام باتوں کا نہ رعایا پر اثر ہوا نہ حکام پر۔بہار میں زلزلہ آیا اور ابھی اس پر ایک سال ہی