خطبات محمود (جلد 16) — Page 378
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہے۔میں بتا رہا تھا کہ پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو عام جن کے بغیر نبوت ثابت ہی نہیں ہو سکتی۔مثلاً یہ کہ جو ہمارے مقابل پر ہو گا وہ تباہ کیا جائے گا۔انسی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ وَإِنِّي مُعِيْنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتک یہ عام پیشگوئی ہے جسے کسی کے کہنے پر چھوڑ انہیں جاسکتا۔ہاں دوسری پیشگوئیاں افراد کے متعلق ہوتی ہیں ان کے اخفاء کے لئے اجازت کی ضروت ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہو تو چھپایا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ایسی ہی پیشگوئیاں تھیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عدالت میں وعدہ کیا تھا کہ انہیں شائع نہیں کریں گے۔نادان اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو چھپایا لیکن جب یہ الہام پہلے ہی شائع شدہ تھا کہ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ وَإِنِّي مُعِيْنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَک تو چھپایا کس چیز کو گیا ؟ کیا بعد میں اس کی اشاعت کو آپ نے بند کر دیا ؟ وہ بدستور قائم تھا اصولی طور پر تو اس کے بعد کسی اور اصل کی اشاعت کی ضرورت ہی نہ تھی۔باقی صرف تشریح تھی اور آپ نے تشریح کے متعلق ہی وعدہ کیا تھا اصل کے متعلق آپ نے کبھی ایسا وعدہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے۔تشریحات میں سے بعض کو چھپا دیا جائے تو نشان میں کوئی فرق نہیں آتا۔جس قسم کی تشریحات کو آپ نے چھپایا ایسا تو تمام انبیاء کرتے آئے ہیں۔ہاں اصول کو ہم کبھی نہیں چھپا سکتے اور اگر حکومت اس کے متعلق یہ کہتی ہے کہ تم قتل کی تحریک کرتے ہو تو ہم خدا کا حکم ماننے پر مجبور ہیں اور اس کے اظہار سے کسی کے کہنے پر رُک نہیں سکتے مگر ان سے قتل کی تحریک مراد لینا قطعاً غلط ہے۔۹۹ فی صدی دشمن ہمارے ایسے ہیں جو خدائی ہاتھوں سے ہلاک ہوئے اور ان کی نظیریں ہوتے ہوئے یہ خیال کرنا کہ قتل کی تحریک کی گئی ہے کس قدر ظلم ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی ایک ایسی پیشگوئیاں کیں مگر ان میں سے صرف ایک ہی ایسی ہے جس کے متعلق اعتراض کیا گیا اور وہ لیکھرام کے متعلق پیشگوئی ہے اور ایک کی وجہ سے ۹۹ کو چھوڑ دینا اور کہنا کہ ایسی پیشگوئیوں کی غرض قتل کی تحریک ہوتی ہے کھلی کھلی نا انصافی اور بے سمجھی کی بات ہے۔پس انداری پیشگوئیاں مذہب کا حصہ ہیں اور جو ان میں دست اندازی کرتا ہے وہ مذہب میں دست اندازی کرتا ہے۔اور ایک مؤمن مر جانا پسند کرے گا بہ نسبت اس کے کہ ایسے حکم کو مانے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود کسی پیشگوئی کے اخفاء کا حکم دے دے۔رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں کا فرفلاں فلاں جگہ پر ہلاک ہوں گے مگر آپ نے یہ صرف چند