خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۵ء مناسب ہوتا ہے ؟ انہوں نے خیال کیا کہ میں اس کا یہی جواب دوں گا کہ جہاں لوگ آسانی سے پہنچ سکیں ، ریل ، ڈاک، تار وغیرہ سہولتیں موجود ہوں یا اگر پر ا نا زمانہ ہوتو قافلوں وغیرہ کا معقول انتظام ہو، تا لوگوں کو وہاں پہنچنے اور نبی کو لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے میں آسانی ہو اور پھر میں یہ سوال کروں گا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر قادیان میں نبی کیسے پیدا ہو گیا ؟ لیکن جب انہوں نے یہ سوال کیا خدا تعالیٰ نے سارا سوال اور اس کا جواب میرے ذہن میں ڈال دیا اور میں نے مسکرا کر ان کے سوال کا یہ جواب دیا کہ ناصرہ سے ہر بڑے قصبہ میں نبی آ سکتا ہے اس پر وہ بالکل بہکے بکے رہ گئے۔دوسرا سوال انہوں نے یہ کیا کہ کیا مرزا صاحب تناسخ کے قائل تھے ؟ یہ سوال کرتے وقت ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں کہوں گا۔نہیں۔تو پھر وہ سوال کر دیں گے کہ آپ مسیح کے بروز کیسے ہو گئے ؟ اور اگر میں کہوں گا ہاں تو اس کا جواب وہ یہ دیتے کہ یہ تو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔میرا ذہن معا اس طرف گیا اور میں نے اصل سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ کہا کہ آپ کو غلطی لگی ہے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت مسیح ناصری کی روح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں آ گئی ہے بلکہ یہ ہے کہ ان کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں۔ان جوابات سے ان کو بہت حیرانی ہوئی اور کہنے لگے کہ کیا آپ کو کسی نے میرے سوالات بتا دیئے تھے ؟ تو ڈاکٹر ز ویمر صاحب نے اپنے خیال میں سمجھ لیا تھا کہ بروز مسیح کہلانے کا مطلب گویا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تناسخ کے قائل تھے۔حکومتوں کو بھی ایسی ٹھوکریں لگ جاتی ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ حاکم رعایا کے خیالات سے اچھی طرح واقف ہو، تا معاملہ کرتے وقت وہ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے رعایا میں بلا وجہ غصہ کی لہر پیدا ہو یا ملک میں فساد پھیلے۔مثلاً پرانے زمانہ میں اس بات پر بہت فساد ہو جاتے تھے کہ انگریز افسر بوٹ سمیت مسجدوں میں کھس جاتے۔آخر حکومت کی طرف سے انہیں سمجھایا گیا کہ ایسا نہ کیا کریں چنانچہ اب ایسا نہیں کرتے۔جس افسر نے کسی مسجد کے اندر جانا ہوتا ہے وہ جوتا اتار لیتا ہے اور جو نہیں اُتارنا چاہتا وہ باہر سے ہی واپس چلا جاتا ہے یا بعض جگہوں پر ایک قسم کی کپڑے کی جو تیاں بنائی ہوتی ہیں جنہیں مسجد میں جاتے ہوئے پہنا دیتے اور پھر اُتار لیتے ہیں۔تو میں بتا رہا تھا کہ نا واقفیت کی وجہ سے بہت بُرے نتائج پیدا ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ حکام کو رعایا کے عقائد و مذاہب اور ان کی خصوصیات سے آگاہی ہو۔تعجب ہے کہ انگریزوں کی حکومت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ایشیا، یورپ، افریقہ