خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 357

خطبات محمود ۳۵۷ سال ۱۹۳۵ء اپنی آبرو کی قربانی کرتے ہو تو مت خیال کرو کہ تم نقصان اُٹھاتے ہو یہ سب عارضی چیزیں ہیں جو آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔یاد رکھو یہ آخری جنگ ہے جو شیطن اور رحمن کی فوجوں میں ہو رہی ہے اس وقت یا شیطان مارا جائے گا یا خدا کے فرشتے مارے جائیں گے سچائی غالب آئے گی یا جھوٹ غالب آئے گا۔پس میں کہتا ہوں کہ اگر تم سچائی کے دلدادہ اور اسے دنیا میں قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہو تو تم اپنے دلوں میں حلف اُٹھاؤ کہ چاہے تم پھانسی پر لٹکا دیئے جاؤ تم سچائی کو نہیں چھوڑو گے اور اگر تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو اس عہد کی پابندی نہیں کر سکتا اور یہ جرأت اپنے اندر نہیں رکھتا کہ چاہے وہ پھانسی پر لٹکا دیا جائے سچائی کو نہ چھوڑے تو میں اس سے کہوں گا کہ اگر وہ کوئی اور قربانی نہیں کر سکتا تو یہی قربانی کرے کہ ہم سے الگ ہو جائے ہم اس کو بھی اس کا احسان سمجھیں گے کیونکہ وہ جو سلسلہ میں رہتے ہوئے مداہنت سے کام لیتا ہے وہ نہ صرف سلسلہ کو بدنام کرتا ہے بلکہ اسلام کی فتح کو بھی پیچھے ڈالتا ہے۔تمہارے سامنے آج سے سینکڑوں سال قبل کا ایک نظارہ ہے حضرت امام حسین نے یزید کے سامنے جان دی کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ حضرت امام حسین اپنی جان نہیں بچا سکتے تھے؟ اگر وہ چاہتے تو مداہنت سے کام لے کر اپنی جان بچا سکتے تھے لیکن انہوں نے مداہنت سے کام نہ لیا بلکہ اپنی جان قربان کر دی مگر با وجود اس کے زندہ حضرت امام حسین ہی ہیں، یزید نہیں۔یزید پر ہر منٹ موت آ رہی ہے میں نے ابھی اس کا نام لیا تو میرا دل اس کے اعمال کے متعلق نفرت و حقارت سے بھر گیا تم نے سنا تو تمہارے دل میں بھی نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوئے لیکن جب میں نے حضرت امام حسین کا نام لیا تو میرا دل اُن کی عزت و عظمت اور محبت سے بھر گیا اور جب تم نے سنا تو تمہارے دل میں بھی ان کے متعلق عزت و عظمت اور محبت کی لہر دوڑ گئی ہو گی۔تو جو شخص سچائی کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے وہ نہیں مرتا پس تم دشمن کا سچائی سے مقابلہ کرو چاہے تمہاری ساری جائداد میں چھین لی جائیں، چاہے تم کو جھوٹے مقدمات میں مبتلاء کر کے پکڑوا دیا جائے اور چاہے جھوٹی گواہیاں دے کر تمہیں قید کرا دیا جائے تم ہمیشہ سچ بولو اور کبھی جھوٹ کے قریب بھی مت جاؤ۔ہاں جو بات تم نہیں کہنا چاہتے اس کے متعلق کہہ دو کہ میں نہیں کہنا چاہتا سچ کے یہ معنی نہیں کہ تم جو نہیں کہنا چاہتے وہ بھی کہہ دو بلکہ سچ کے یہ معنی ہیں جو کچھ کہو وہ سچ ہو مگر کئی باتیں نہ کہنی بھی جھوٹ میں شمار ہوتی ہیں مثلاً ایک شخص کہتا ہے