خطبات محمود (جلد 16) — Page 294
خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۵ء بات کا ہوسکتا تھا۔اگر واقعہ میں سیالکوٹ کا حلقہ احراریوں کے ساتھ ہو تو وہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو کیوں کھڑا کرے گا یا دوسرے اضلاع احراریوں کے ساتھ ہوں تو وہ کیوں کسی احمدی کے حق میں رائے دیں گے لیکن ہمیں علیحدہ کرنے میں ایک ممبری ہمیں ضرور دینی پڑے گی۔پس اگر ان کی مخالفت کسی دیانت پر مبنی ہوتی تو ان کی ساری کوشش اس بات پر صرف ہوتی کہ کہتے احمدیوں کو علیحدہ نہ کرو تا یہ ایک ممبری بھی نہ لے جائیں مگر وہ کہتے ہیں احمدیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دو۔صاف پتہ لگتا ہے کہ انہیں ڈر ہے یہ ساتھ رہنے سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیں گے اور اگر الگ رہے تو تھوڑا فائدہ اُٹھا ئیں گے پس ان کی مخالفت ہرگز دیانت پر مبنی نہیں لیکن میں کہتا ہوں وہ بے شک جتنا جی چاہے ہماری مخالفت کریں مگر اس امر کا خیال رکھیں کہ وہ دیانت و شرافت کو ہاتھ سے نہ دیں۔اب تو ایسا ہوتا ہے کہ جموں سے ایک شخص اٹھتا ہے وہ پہلے مجھے خلیفتہ امی کہہ کر اپنی تحریرات میں مخاطب کرتا ہے احرار کا مخالف ہوتا ہے لیکن جو نہی اسے لیڈری کا شوق اٹھتا ہے وہ ہماری جماعت کی مخالفت کرنے لگ جاتا ہے۔یہی سرمرز اظفر علی صاحب ہیں جنہوں نے سر شادی لال کو دعوت دیئے جانے کے موقع پر مجھے چٹھی لکھی اور السلام علیکم کے بعد لکھا کہ پچاس روپے بھیجئے تا کہ آپ کا نام بھی دعوت دینے والے مسلمان معززین کی فہرست میں آ جائے مگر آج ان کی نگاہ میں ہم غیر مسلم بن گئے۔پھر سر شادی لال کی دعوت کے موقع پر تو وہ سب سے آگے آگے تھے لیکن چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو دعوت دینے کے وقت انہیں یاد آ گیا کہ احمدی مسلمان نہیں اس لئے دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔گویا سر شادی لال تو بڑے پکے مسلمان تھے ان کی دعوت میں شریک ہونا کوئی قابلِ اعتراض امر نہ تھا۔ہاں اگر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی دعوت کی تائید ہو جاتی تو یہ کفر ہو جاتا۔پس یہ طریق انصاف کا نہیں بلکہ ضد کا ہے اور ضد کا طریق کبھی کسی قوم کے لئے با برکت ثابت نہیں ہوتا۔پس میں احرار کو تو جہ دلاتا ہوں گوان پر میرے توجہ دلانے کا کوئی اثر نہ ہو اور دوسرے لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں گوان پر بھی میرے کہنے کا اثر نہ ہو کہ مسلمانوں کا سواد اعظم اور ان کی اکثریت اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرے جو اس فتنہ کی محرک ہے۔حقیقت یہ نہیں کہ ہم مسلمان نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کے فوائد کو وہ ہماری وجہ سے نقصان نہیں پہنچا سکتے جیسا کہ نہرورپورٹ کے موقع پر انہیں ناکامی ہوئی۔پس وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو اس وجہ سے کہ احمدی مسلمانوں کے