خطبات محمود (جلد 16) — Page 286
خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۵ء الگ کر دے ، اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور مسلمانوں کے لئے نقصان رساں چیز کیا ہوسکتی ہے۔پھر سوال یہ ہے ہمیں مسلمانوں میں سے نکالنے والا ہے کون؟ حکومت کو کیا اختیار ہے کہ وہ کہے کہ ہم تمہیں مسلمان نہیں سمجھتے۔کہا جاتا ہے کہ احمدی چھپن ہزار ہیں۔میں کہتا ہوں نہ سہی چھپن ہزار۔اگر احمدی تمام دنیا میں چھ بھی ہوتے یا ایک ہی ہوتا تب بھی دنیا کی کوئی گورنمنٹ نہیں جو اسے مسلمانوں میں سے نکال سکے۔مذہب منہ کے دعوئی پر مبنی ہوتا ہے اور جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ تم مسلمان نہیں۔ہم تمہیں مسلمانوں میں سے نکالتے ہیں پس ان کی طرف سے جو یہ سوال پیدا کیا گیا ہے کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں سے نکال دیا جائے محض لغو اور فضول ہے۔جب تک ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اس وقت تک دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مسلمانوں میں سے نکال نہیں سکتی۔ہمیں مسلمانوں میں سے نکالنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہم دوسروں کو کافر کہتے ہیں مگر دوسروں کو کا فر کہنے کا مفہوم تو یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ہی پکا مسلمان سمجھتے ہیں پھر کیا پکے مسلمانوں کو بھی کوئی شخص نکال سکتا ہے۔ہمارا لجرم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو زیادہ پکا مسلمان سمجھتے اور دوسروں کو اپنے جیسا پکا مسلمان نہیں سمجھتے اس جرم کی وجہ سے وہ کہتے ہیں چونکہ یہ پکے مسلمان بنتے ہیں، اس لئے انہیں مسلمانوں میں سے نکال دو۔کتنی معقول وجہ ہے جو بیان کی جاتی ہے۔پس اول تو یہ جرم ہی نہیں لیکن اگر ا سے جُرم بھی فرض کر لیا جائے تب بھی میں کہتا ہوں ایس گنا ہیست که در شهر شما نیز کنند یہ قصور اور خطا وہ ہے جو تمہارے شہر میں بھی کی جاتی ہے مسلمانوں کی کونسی جماعت ہے جو ایک دوسرے کو کا فرنہیں کہتی۔کیا مولوی ظفر علی صاحب پر کفر کے فتوے نہیں لگے ، کیا احرار کے لیڈروں مولوی حبیب الرحمن صاحب اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری پر کفر کے فتوے نہیں لگے ؟ یہ مسلمان مولوی تو ہیں ہی کا فر گر۔اس کفر کے سمندر میں اگر ان کے خیال کے مطابق کفر کا ایک قطرہ ہم نے بھی ڈال دیا تو اس سے ان پر گھبراہٹ کیوں طاری ہو گئی۔ان کے ہاں تو اگر کسی کا ٹخنے کے نیچے تہہ بندیا پاجامہ ہو جائے تو کفر کا فتویٰ لگ جاتا ہے، ہاتھ اوپر باندھنے سے کفر کا فتویٰ لگ جاتا ہے، تشہد کے وقت انگلی اوپر اٹھانے سے کفر کا فتو ی لگ جاتا ہے پس ایسی مشاق جماعت جو کفر کے میدان کی شہسوار ہے ہمارے کا فر کہنے سے گھبرا کیوں گئی۔یا تو ہمارے کا فر کہنے میں کوئی ایسی بات ہے جس سے انسان