خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 18

خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۵ء میں وَجَاعِلُ الَّذِينَ ہے اور میری زبان پر اِنَّ الَّذِینَ کے لفظ جاری کئے گئے۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر عرصہ پہلے سے یہ خبر دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ تیرے متبع تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔اب اس کی ایک مثال تو موجود ہے۔کتنے شاندار وہ لوگ تھے جنہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی مگر دیکھو اللہ تعالیٰ نے ان کو کس طرح مغلوب کیا ہے۔بعد کا میرا ایک اور رویا بھی ہے جو اس کی تائید کرتا ہے۔میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نور کے ستون کے طور پر زمین کے نیچے سے نکلا۔یعنی پاتال سے آیا اور اوپر آسمانوں کو پھاڑ کر نکل گیا۔اگر چہ مثال بُری ہے لیکن ہندوؤں میں یہ عقیدہ ہے کہ شو جی زمین کے نیچے سے آیا اور آسمانوں سے گزرتا ہوا اوپر چلا گیا۔یہ مثال اچھی نہیں مگر اس میں اسی قسم کا نظارہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاتال سے نکل کر افلاک سے بھی اوپر نکل گیا۔میں نے بھی دیکھا کہ ایک نور کا ستون پاتال سے آیا اور افلاک کو چھ و چیرتا ہوا چلا گیا۔میں کشف کی حالت میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کا نور ہے۔پھر اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا لیکن مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ اس کے رنگ میں ایسی مشابہت تھی کہ گویا وہ گوشت کا ہے۔اس میں ایک پیالہ تھا جس میں دودھ تھا جو مجھے دیا گیا اور میں نے اسے پیا اور پیالے کو منہ سے ہٹاتے ہی پہلا فقرہ جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ اب میری امت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔معراج کی حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے تین پیالے پیش کئے گئے۔پانی ، شراب اور دودھ کا اور آپ نے دودھ کا پیالہ پیا تو جبرائیل نے کہا کہ آپ کی اُمت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔ہاں اگر آپ شراب کا پیالہ پیتے تو یہ امت کی گمراہی پر دلالت کرتا۔پس ان رؤیا ؤں سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے دشمن باہر سے مایوس ہو کر ہم میں سے بعض کو ورغلا نا چا ہے لیکن بہر حال فتح ان کی ہے جو میرے ساتھ ہیں میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ یہ واقعات میری زندگی میں ہوں گے یا میرے بعد کیونکہ بعض اوقات زندگی کے بعد کے واقعات بھی رؤیا میں دکھا دیئے جاتے ہیں۔اور بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے واقعات ہیں مگر میں جماعت کو ہوشیار کرتا ہوں کہ یہ قیمتی اصول ہیں جن پر انہیں مضبوطی سے قائم رہنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مأموریت اور آپ کے اُمتی ہونے کو کبھی نہ بھولو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سب سے بڑی لذت اس میں ملتی ہے کہ میں امتی نبی ہوں۔پس جس خوبصورتی پر آپ کو ناز تھا ، اسے کبھی نہ چھوڑ و۔پھر آپ کی تعلیم اور الہامات کو