خطبات محمود (جلد 16) — Page 216
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لیتے ہیں۔اگر ایک دعا کرے تو وہ مفر وصیغہ استعمال کر سکتا ہے ، اگر کئی دعا کرنے والے ہوں تو وہ جمع کا صیغہ استعمال کر سکتے ہیں یہ ایسی بات ہے جیسے قرآن کریم میں احکام کا ذکر کرتے ہوئے اکثر ضمائر ذکور کے لئے ہیں لیکن ان میں مرد اور عورت دونوں مخاطب ہیں۔ان سے یہ دھوکا نہیں ہوسکتا کہ عورتیں اس حکم میں شامل نہیں ہیں بلکہ اس سے عورتوں کے لئے بھی استدلال کر لیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خاص موقع پر یہ دعا سکھائی گئی اور آپ چونکہ اس کے مخاطب اول تھے۔اس لئے نبی کا لفظ استعمال کیا۔اب ہمارے خلاف جماعتی فتنہ ہے اگر کوئی شخص اپنے جوش میں یہ دیکھتا ہے کہ اس کا وجود جماعت میں غائب ہو گیا ہے تو وہ نا کا لفظ بھی استعمال کر سکتا ہے اور یہ الہام میں دست اندازی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی آیات کو اپنی عبارت میں بعض لفظ بدل کر استعمال کر لیا ہے گویا انہیں اپنا لیا ہے اور اگر قرآن کریم کی آیتیں اس طرح استعمال ہو سکتی ہیں تو یقیناً دعا ئیں بھی ہوسکتی ہیں۔پس جو لوگ اپنی حالت ایسی پائیں کہ اپنے آپکو منفرد دیکھیں ، وہ نسی کہہ لیں لیکن جو ایسی کیفیت محسوس کریں کہ گویا ان کا دکھ ساری جماعت کا دکھ ہے اور وہ سکھ اور رحم اپنے لئے نہیں مانگتے جب تک ساری جماعت کو نہ ملے وہ نما کہہ لیں تو کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ان باتوں کا انسان کے جذبات کے ساتھ تعلق ہے اور زبان جذبات کے ماتحت آتی ہے۔انسان منافقت سے اسی وقت دور ہوتا ہے جب دل اور زبان دونوں متحد ہوں ورنہ نفاق چھا جاتا ہے۔دوسری دعا جو رسول کریم ﷺ کی ہے۔یہ دعا آپ اُس وقت مانگتے تھے جب قومی طور پر کوئی فساد د یکھتے۔کئی حدیثوں میں ہے جب آپ کو کسی قوم سے خوف ہوتا کہ اسلام کے مقابلہ پر کھڑی ہے اور اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو آپ اُس وقت یہ دعا مانگتے تھے اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِى نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمُ سے یہ دعا رسول کریم ﷺ کے دستور میں شامل ہے اور ایسے ہی موقع کے لئے ہے جب اقوام ایک جتھے کے طور پر جمع ہو کر اسلام پر حملہ آور ہوں اور چونکہ ہماری حالت بھی آجکل ایسی ہی ہے کہ سب تو میں حتی کہ حکومت کا ایک حصہ بھی متحدہ طور پر ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہے اس لئے اس دعا کے پڑھنے کا یہ خاص موقع ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ سے دشمن کے مقابلہ میں امداد چاہی گئی ہے دشمن کی طرف سے حملہ بھی دوطرح کا ہوتا ہے ، ایک حملہ جو سامنے سے کیا جاتا ہے اور ایک وہ جو پیچھے سے ہوتا ہے جو سامنے سے کیا جائے اس کی زد چھاتی اور