خطبات محمود (جلد 16) — Page 11
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سے بعض کی جانوں پر حملے ہوں۔چنانچہ مجھے قتل کی دھمکیوں کے کئی خطوط ملے ہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے جوشوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔میں جانتا ہوں کہ وہ دوہرے طور پر جکڑے ہوئے ہیں۔ان پر ایک قانون کی گرفت ہے اور ایک ہماری اور ہماری گرفت قانون کی گرفت سے بہت زیادہ سخت ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس ناراضگی کے بعد جو ہمارے دلوں میں پیدا کی جارہی ہے، قانون کی گرفت کسی احمدی کے دل پر رہ سکتی ہے کیونکہ اشتعال اس قد رسخت ہے کہ صبر ہاتھوں سے نکلا جار ہا ہے۔اگر احمدیت ہمیں نہ روکتی تو جس طرح سلسلہ کی بے حرمتی کی جارہی ہے میں نہیں سمجھتا ایک منٹ کے لئے بھی قانون ہم میں سے کسی کو روک سکتا لیکن بہر حال قانون چلتا ہے اور ہمارا مذہب ہمیں اس کی پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے۔پس ایک طرف تو اس کی رکاوٹ ہے دوسری طرف سے ہماری گرفت جماعت کے دوستوں پر ہے کہ وہ حتی الوسع اپنے جذبات کو دبائے رکھیں اور ہماری گرفت ایسی سخت ہے کہ اس کے مقابل میں قانون کی گرفت کوئی چیز نہیں۔اور ان حالات میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے دل خون ہو رہے ہیں، طبیعتیں بے چین ہیں، صحتوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے اور انہیں موت سے زیادہ تلخ پیالہ پینا پڑ رہا ہے مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ میں ان کی تکالیف سے ناواقف نہیں ہوں۔جس وقت تک کہ میں دیکھوں گا کہ ہم دونوں پہلو نباہ سکتے ہیں ، میں ان کو صبر کی تلقین کرتا رہوں گا مگر جب میں دیکھوں گا کہ ہمارے صبر کی کوئی قیمت نہیں، حاکم اسے کوئی وقعت نہیں دیتے بلکہ وہ اسے ہماری بزدلی پر محمول کرتے ہیں تو اس دن میں دوستوں سے کہہ دوں گا کہ میں ہر کوشش کر چکا لیکن تمہاری تکلیف کا علاج نہیں کر سکا اب تم جانو اور قانون کیونکہ قانون صرف اپنی پابندی کا مجھ سے مطالبہ کرتا ہے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میں اس کے حکم سے بھی زیادہ لوگوں کو رو کے رکھوں۔جیسا کہ میں اب کر رہا ہوں کہ جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں بھی تمہارے ہاتھ باندھے رکھتا ہوں قانون یہ تو حکم دے سکتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کر ومگر اپنے مذہب کو اس کی تائید میں استعمال کرنے کا مجھے پابند نہیں کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک جو احمدی جوش میں آتے ہیں وہ قانون کے منشاء سے بھی بڑھ کر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اس کا باعث میری وہ تعلیم ہے جو میں اسلام کے منشاء کے مطابق انہیں دیتا ہوں۔جب میری آواز انہیں آتی ہے کہ رک جاؤ تو وہ رک جاتے ہیں۔جیسا کہ احرار کے جلسہ پر ہوا کہ میں نے انہیں کہا کہ خواہ کوئی