خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۵ء پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ زمین و آسمان کا ذره ذره خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے تمہارا فرض ہے کہ تم اس تسبیح کو سنو اور اگر تم اپنے گھر کو دیکھتے ہو جس میں تم رہتے ہو، اس چار پائی اور بستر کو دیکھتے ہو جس پر تم سوتے ہو اور اس فرش کو دیکھتے ہو جس پر اپنی چیزیں رکھتے ہو ، اس چھت کو دیکھتے ہو جس کے نیچے رہتے ہو، اس ٹرنک کو دیکھتے ہو جس میں تمہارا اسباب پڑا ہوا ہے ، اس تھالی کو دیکھتے ہو جس میں تمہارے لئے سالن پڑا ہے ، اس روٹی کو دیکھتے ہو جسے تم کھا رہے ہو، اس پانی کو دیکھتے ہو جس سے تم پیاس بجھاتے ہو مگر ان تمام چیزوں کو یکھنے کے باوجود تمہارے دل ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں پہچانتے اور تمہارے دل بھی ان چیزوں کو دیکھ کر سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللہ نہیں کہ اٹھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل کو فالج ہو چکا ہے ورنہ کیوں تمہارے دل بھی مقابل میں وہی کچھ نہ کرنے لگیں جو یہ چیزیں کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تسبیح کر رہی ہے اگر ہمارے دل اس کی چیزوں کو دیکھنے کے با وجود نبی نہیں کرتے تو ہم مُردہ دل ہیں۔ایک مجلس میں بیٹھ کر دیکھ لولوگوں کو چاند کا انتظار ہو اور ایک شخص دیکھ لے اور کہے چاند نکل آیا تو کس طرح تمام لوگ شور مچادیتے ہیں کہ کدھر ہے کدھر ہے ؟ اسی طرح کس طرح ممکن ہے کہ دیواریں سُبْحَانَ اللہ کر رہی ہوں مگر ہمارے دل سُبْحَانَ اللہ نہ کرتے ہوں۔بندر والے بند ر نچاتے ہیں تو تماشہ دیکھنے والے لڑکے ناچنے لگ جاتے ہیں تقریر کرنے والا تقریر کرتا ہے تو سننے والوں کے دلوں میں ولولے اُٹھنے شروع ہو جاتے ہیں پھر کس طرح ممکن ہے کہ ذرہ ذرہ تسبیح کر رہا ہو اور زمین و آسمان میں ایک شور پڑا ہو ا ہو مگر ہمارے دل میں کوئی تسبیح کا احساس نہ ہو۔حضرت مظہر جان جاناں صاحب دتی کے ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں ان کے غلام علی نام ایک خلیفہ تھے۔غالباً بٹالہ کے رہنے والے تھے ایک دن مظہر جان جاناں صاحب کے پاس کوئی شخص ہدیہ بالائی کے لڈو لا یا۔بالائی کے لڈو بہت چھوٹے ہوتے ہیں ہمارے پنجاب میں جو بوندی کے لڈو بنائے جاتے ہیں وہ بالائی کے لڈوؤں سے چار گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں انہوں نے بالائی کے دولڈ واپنے خلیفہ اور شاگر دمیاں غلام علی صاحب کو دے دیئے۔انہوں نے اُسی وقت منہ میں ڈالے اور کھا لئے۔ہمارے پنجاب میں تو اکثر آدھا لڈو یکدم منہ میں ڈال لیا جاتا ہے بلکہ بعض لوگ سارا لڈو ہی منہ میں ڈال لیتے ہیں اور وہ تو بالائی کے لڈو تھے اور بہت ہی چھوٹے چھوٹے۔