خطبات محمود (جلد 16) — Page 117
خطبات محمود 112 سال ۱۹۳۵ء تمہارے لئے مقدر ہے ، عزت تمہارے لئے مقدر ہے ، بڑائی تمہارے لئے مقدر ہے، رتبہ تمہارے لئے مقدر ہے۔جو لوگ آج تمہارے دشمن ہیں وہ کل تمہارے دوست ہوں گے ، جو آج تمہیں مٹانے کے درپے ہیں وہ کل تمہارے میناروں کو اونچا کرنے والے ہوں گے۔پس دشمن کو دشمن نہ سمجھو بلکہ یقین رکھو کہ وہ تمہارا دوست بنے والا ہے سوائے اُس شخص کے کہ جس کے لئے ازل سے ہدایت مقدر نہیں۔تم مایوس مت ہوا اور نہ اپنے حواس کھوا۔عقل قائم رکھو اور حوصلے بلند رکھو پھر قطعا تمہیں کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔خدا تمہارا دشمن نہیں بلکہ دوست ہے۔بے شک تم تو بہ کرو اور استغفار کرو مگر تم تو بہ اس لئے نہ کرو کہ کوئی عذاب ہے جسے تم دُور کرنا چاہتے ہو بلکہ اس لئے کرو کہ تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل کا اگلا دروازہ تمہارے لئے کھول دے، تم دعائیں کرو مگر اس لئے نہیں کہ خدا تمہیں تباہ کرنے کے لئے اُٹھا ہے بلکہ اس لئے کہ وہ تم پر رحم کرنے کے لئے اُٹھا ہے ، تم دعائیں کرو کہ تم اس کے رحم سے زیادہ سے زیادہ حصہ لو۔پس صداقت کو سامنے رکھتے ہوئے کام کر وموجودہ مشکلات سے گھبرانے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس سے بہت زیادہ مشکلات ہیں جن پر تم نے غالب آنا ہے۔تم آج اپنے جوشوں کو بھی ٹھنڈا رکھو اور خدا پر بھی امید رکھو کہ خدا پر بدظنی کرنے والا خود ہلاک ہوتا ہے۔پھر اپنی تدبیروں سے بھی پیچھے مت ہو اور تقدیر پر بھی بھروسہ رکھو مگر تدبیر سے کام لینے کے یہ معنی نہیں کہ تم صبح تدبیر سے کام لو اور شام کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر دیکھنا چا ہو۔جو شخص اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اسے بھی اولاد کے لئے نو (9) مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے ہاں جتنی زیادہ تدبیریں کرو گے اتنی ہی زیادہ تقدیر میں ظاہر ہوں گی۔محمد ﷺ کو بھی تدبیریں کرنی پڑتی تھیں اور ابو جہل بھی تدبیر میں کرتا تھا مگر محمد ﷺ کی تدبیروں کی تقدیر مدد کرتی اور ابو جہل کی تدبیروں کی تقدیر مدد نہ کرتی۔پس تدبیریں کئے جاؤ اور یہ مت دیکھو کہ کب نتیجہ نکلتا ہے۔ممکن ہے ہماری تدبیر میں تین سال کے بعد نتیجہ خیز ہوں ہممکن ہے چھ سال کے بعد ہوں اور ممکن ہے بارہ سال کے بعد ہوں ہاں جو نتیجہ نکلنا ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم حق پر ہیں اور بہر حال ہم دنیا پر غالب آ کر رہیں گے۔ہمارے دل جانتے ہیں کہ ہم میں خدا کی محبت ہے ہمارے دل جانتے ہیں کہ ہمارے اندر انبیاء کی محبت ہے ، ہمارے دل جانتے ہیں کہ ہم میں رسول کریم ﷺ کی محبت ہے ، ہمارے دل جانتے ہیں کہ ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ہے اور ہمارے دل جانتے ہیں کہ ہم فتنہ و فساد نہیں چاہتے بلکہ