خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 104

خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۵ء لیکن اگر یہ عذاب ہے جو ہماری جماعت پر آ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تو قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ام حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمُ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ امَنُوا مَعَه مَتى نَصْرُال الله کا یعنی جب تک تم پر وہ مصائب نہ آئیں جو پہلے لوگوں پر آئے اور جب تک تم ہلائے نہ جاؤ۔اس وقت تک تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا پس وہ لوگ جو موجودہ مشکلات کو اللہ تعالیٰ کا عذاب قرار دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ ابتلاء ہماری جماعت پر آگئے جن کا آنا خدا تعالیٰ کے فرمودہ کے مطابق مقدر ہے۔اگر ہمارے ابتلاء عذاب الہی قرار پا سکتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کب ہو گی۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جماعت کی ترقی ہمیشہ ابتلاؤں کے بعد ہوا کرتی ہے پس جب تک انعامی ابتلاؤں کا سلسلہ ختم نہ ہو جائے اس وقت تک عذاب الہی ہماری جماعت پر آ ہی نہیں سکتا ورنہ اگر پہلے ہی عذاب شروع ہو جائیں تو وہ کونسے دن ہوں گے جن میں جماعت ترقی کرے گی۔عذاب کے بعد تو کوئی قوم ابھر انہیں کرتی۔اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس امر کا ذکر فرمایا ہے وہ ایک قاعدہ کلیہ ہے اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کی قوم ان تمام ابتلاؤں میں سے نہ گزری ہو پس جب تک ابتلاؤں کا دور ختم نہیں ہو جاتا ہمارے تمام ابتلاء انعامی ہو سکتے ہیں عذابی نہیں ہو سکتے اور ہرا بتلاء ہمارے لئے ایسا ہی نتیجہ خیز ہوگا جیسا کہ مثنوی رومی والے کہتے ہیں۔ہر بلا کیں قوم راحق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند یعنی مسلمانوں کی جماعت پر جب بھی کوئی تکلیف آتی ہے تو وہ عذاب کی صورت میں نہیں آتی بلکہ اس کے نیچے فضل کا بہت بڑا خزانہ مخفی ہوتا ہے لیکن عذاب جب آتا ہے تو وہ قوم کو تباہ کو دیتا اور دلوں پر زنگ لگا دیتا ہے۔بے شک ایسی سزائیں بھی ہوتی ہیں جو نجات کا موجب ہوتی ہیں مگر وہ فردی ہوتی ہیں قومی نہیں ہوتیں۔پھر وہ کفار کے لئے ہوتی ہیں مؤمنوں کے لئے نہیں ہوتیں۔ایمان کا دعویٰ کر نیوالوں کے لئے جب بھی قومی طور پر عذاب آتا ہے اس کے بعد وہ قوم ترقی نہیں کرتی بلکہ تنزل میں گرتی چلی جاتی ہے پھر اس کے بعد جو خلفا ء آتے یا جو مجد دکھڑے ہوتے ہیں وہ قوم کے لئے ٹیکیں اور سہارے ہوتے ہیں قومی ترقی ان کے ذریعہ نہیں ہوتی۔جیسے کسی گر نیوالی چھت کے نیچے کوئی ستون