خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ ۶ سال ۱۹۳۵ء ہر حال میں خلیفہ کی اطاعت فرض ہے (فرموده ۸ فروری ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں ایک انصاری صحابی کا ذکر کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بعض انصار کی تحریک تھی کہ انصار میں سے خلیفہ مقرر کیا جائے لیکن جب مہاجرین نے خصوصاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو بتایا کہ اس قسم کا انتخاب کبھی بھی ملت اسلامیہ کے لئے مفید نہیں ہو سکتا اور یہ کہ مسلمان کبھی اس انتخاب پر راضی نہیں ہو نگے تو پھر انصار اور مہاجر اس بات پر جمع ہوئے کہ وہ کسی مہاجر کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ذات پر ان سب کا اتفاق ہوا۔میں نے بتایا تھا کہ اس وقت جب سعد نے بیعت سے تخلف کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اقْتُلُوا سَعدًا یعنی سعد کو قتل کر دو۔مگر نہ تو انہوں نے سعد کو قتل کیا اور نہ کسی اور صحابی نے بلکہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شام میں فوت ہوئے۔جس سے آئمہ سلف نے یہ استدلال کیا ہے کہ قتل کے معنی یہاں جسمانی قتل نہیں بلکہ قطع تعلق کے ہیں اور عربی زبان میں قتل کے کئی معنی ہوتے ہیں جیسا کہ میں پچھلے خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔اُردو میں بے شک قتل کے معنی جسمانی قتل کے ہی ہوتے ہیں لیکن عربی زبان میں جب قتل کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں سے ایک معنی قطع تعلق کے ہیں اور لغت والوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد قتل سے قتل نہیں بلکہ قطع تعلق تھا۔ورنہ اگر